
از: سہیل شہریار
عرب اور اسلامی دنیا نے او آئی سی اور جی سی سی کی دوحہ حملے کے تناظر میں منعقد ہونے والی ہنگامی سربراہی کانفرنس میں مختلف ملکوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات کا جائزہ لیں۔ اسرائیل کو فلسطینی عوام کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے سے روکنے کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھائیں۔اسلامی ممالک اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کروانے کے لئے مشترکہ کوششیں کریں۔ اور دوحہ حملے جیسے اقدام کو روکنے کے لئےاسلامی اور خلیجی ممالک کا مشترکہ دفاعی انتظام تشکیل دیا جائے۔
پیر کے روز منعقد ہونے والی کانفرنس کے مشترکہ بیان میں تجویز کئے گئے اقدامات میںاسرائیل کی خلاف ورزیوں اور جرائم کے لیے اسے جوابدہ ٹھہرانا، اس پر پابندیاں عائد کرنا اور اسے ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی، منتقلی یا گزرنے پر پابندی عائد کرنا شامل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ ثالثی کے ایک غیر جانبدار مقام پر یہ جارحیت نہ صرف قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی ثالثی اور امن سازی کے عمل کو بھی کمزور کرتی ہے اور اس حملے کے مکمل نتائج کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔
بیان میں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی جارحیت اور اس کے مسلسل اقدامات، نسل کشی، نسلی تطہیر، بھوک اور محاصرہ اور توسیعی آبادکاری کی سرگرمیاں خطے میں امن اور پرامن بقائے باہمی کے حصول کے مواقع کو کمزور کر رہی ہیں۔ اسرائیل کی مذموم کاروائیاں اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کی جانب حاصل کی گئی تمام کامیابیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اور اسرائیل کے ساتھ موجودہ اور مستقبل کے معاہدوں کو بھی خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=WOVzenKL3oM
عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے حتمی بیان میں قطر کے ساتھ اس جارحیت کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا جو تمام عرب اور اسلامی ممالک پر ایک حملہ ہے۔ بیان میں قطر کے ساتھ ہر اس قدم اور تدبیر میں ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا گیا جو وہ اس غدارانہ اسرائیلی حملے کا جواب دینے کے لیے اٹھائے گا۔ تاکہ اس کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے ساتھ ساتھ اس کے شہریوں اور اس کی سرزمین پر مقیم افراد کی حفاظت کی جا سکے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قطر کی سرزمین ، جو غزہ میں جنگ بندی، جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کے لیے اہم ثالث کے طور پر کام کر رہی ہے، پر یہ جارحیت ایک خطرناک اضافہ ہے اور امن کی بحالی کی سفارتی کوششوں پر حملہ ہے۔












