تہران ( پاک ترک نیوز) عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک ہولناک فضائی حملے کے بعد اب بھی شدید زخموں سے لڑ رہے ہیں۔ وہی حملہ جس نے ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جان لے لی تھی۔
ذرائع کے مطابق، تہران کے حساس ترین کمپاؤنڈ پر ہونے والے اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ بری طرح بگڑ گیا تھا، جبکہ ان کی ایک یا شاید دونوں ٹانگیں شدید متاثر ہوئیں۔ یہاں تک کہ کچھ خفیہ اطلاعات یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ اپنی ایک ٹانگ کھو چکے ہیں۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ پس پردہ طاقت کا کھیل، کھیل رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ آڈیو کانفرنس کے ذریعے اعلیٰ حکام سے رابطے میں ہیں اور جنگ اور امریکا کے ساتھ مذاکرات جیسے اہم فیصلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے اگر وہ واقعی قیادت کر رہے ہیں تو پھر عوام کے سامنے کیوں نہیں آ رہے؟ نہ کوئی ویڈیو، نہ کوئی تصویر، نہ ہی کوئی آواز۔ صرف خاموشی۔
اُدھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیکستھ نے بھی اشارہ دیا ہے مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی اور ممکنہ طور پر چہرے سے معذور ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی انٹیلی جنس ذرائع اس سے بھی آگے جا کر ایک ٹانگ کھونے کی بات کرتے ہیں۔
دوسری طرف تجزیہ کار Alex Vatanka ” الیکس واٹنکا ” کا کہنا ہے کہ چاہے خامنہ ای صحت یاب بھی ہو جائیں، وہ اپنے والد جیسی طاقت حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ان کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای اب صرف ایک آواز ہوں گے، فیصلہ کن طاقت نہیں۔












