
از: سہیل شہریار
دوحہ پر اسرائیلی حملے کےچھ روز بعد قطر کل ایک ہنگامی عرب و اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔جسکی تیاری کے لئے وزرائے خارجہ کا اجلاس جاری ہے۔
دوحہ سمٹ پورے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اقدامات کے خلاف محض مذمت سے ہٹ کر ایک مشترکہ بیانیہ تشکیل دینے کا تاریخی موقع ہے۔اوردنیا قطر اور دیگر علاقائی و اسلامی ممالک کی جانب دیکھ رہی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کون کون سے آپشنز سامنے لاتے ہیں۔ دنیا بھرکے مسلمانوں کو اس اجلاس سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہیں اس لئےیہ کانفرنس صرف مذمت تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ دنیا کو دکھانا ہو گا کہ عرب اور اسلامی دنیا میں اسرائیل کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک نئی سوچ بیدار ہو رہی ہے۔
عرب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد عرب قوم پرستی کا جذبہ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔اور اس حملے کو نہ صرف قطر بلکہ تمام عرب ممالک پر حملہ تصور کیا جا ر ہا ہے۔اور پہلی مرتبہ سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حلیف ممالک نے بھی اس کی مذمت سے گریز نہیں کیا۔ لہذا یہ عرب و اسلامی سمٹ عالمی سطح پر اسرائیل مخالف بیانیے کو مضبوط کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
کل ہونےوالے سربراہی اجلاس میں گذشتہ منگل کو اسرائیلی حملے کے حوالے سے ایک قرارداد اور مشترکہ اعلامیہ سمیت متعدد تجاویز پر بات چیت کی جائے گی، جسے آج عرب اور اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں حتمی شکل دی جارہی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=H_vyAi2LrQg
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق اس وقت عرب اسلامی سربراہی اجلاس بلانے کے کئی معنی اور مضمرات ہیں۔ یہ اجلاس نہ صرف قطر کے ساتھ عرب اور اسلامی یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔بلکہ اسرائیلی انتہا پسندی کے خلاف مضبوط مؤقف اپنانے کا نادر موقعہ بھی فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ اجلاس ’اسرائیل کے بزدلانہ اور جارحیت پر مبنی اقدامات‘ کے خلاف اسلامی دنیا کی ایک مشترکہ آواز ہو گا۔
https://www.youtube.com/shorts/xW_JgAriXkc
ذرائع کا کہنا ہے کہ آج ہو رہے اسلامی وزرائے خارجہ کےاجلاس میں قطر سے اظہار یکجہتی کےساتھ ایک اجتماعی پالیسی تشکیل دینے پر توجہ مرکوز ہوگی۔تاکہ سربراہی اجلاس ایک مضبوط سیاسی موقف سامنےلایا جائے۔جس سے اسرائیل کو ایک سخت پیغام دیاجائے۔
اس ضمن میںبہت سے اقدامات ہیں جیسے کہ وہ ممالک جنکے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات قائم ہیں وہ ان پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر مضبوط یکساں مؤقف سے دنیا خصوصاًمغربی ملکوں سے اپنی اہمیت منوا سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک دنیا کو تیل کی ضروریات کا 40 فیصد فراہم کرتے ہیں اور یہ معاملہ بھی اُنھیں خاص بناتا ہے۔اسی طرح بین الاقوامی عدالتوں اور تنظیموں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا سکتاہے۔اسکے علاوہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کےعمل میں اسرائیل کی بجائے براہ راست امریکہ سے بات چیت کا آپشن بھی موجود ہے۔












