واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) کینیڈا اور امریکا کے درمیان ونڈسر-ڈیٹرائٹ راہداری پر قائم گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج پیر سے باضابطہ طور پر تجارتی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ۔ 25 سالہ منصوبہ بندی، 7 سالہ تعمیراتی کام اور کئی ماہ کی تاخیر کے بعد اب پہلی بار ٹرک اس پل سے گزرنا شروع ہوں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت مزید تیز اور مؤثر ہونے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نئے پل سے ٹرک ڈرائیوروں کے انتظار کا وقت سالانہ تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار گھنٹے کم ہو جائے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ہر ماہ 20 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک کی بچت ہو سکتی ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق ونڈسر-ڈیٹرائٹ راہداری سے گزرنے والی تجارتی ٹریفک کا تقریباً 44.5 فیصد حصہ اب گورڈی ہاؤ برج استعمال کرے گا۔ یہ پل امریکا کی انٹراسٹیٹ 75 شاہراہ کو براہِ راست اونٹاریو کی 400 سیریز ہائی ویز سے جوڑتا ہے، جس سے سفر مختصر اور ٹریفک جام میں نمایاں کمی آئے گی۔
ونڈسر-ڈیٹرائٹ راہداری سے روزانہ تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر مالیت کی تجارت ہوتی ہے، جبکہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان ہونے والی مجموعی زمینی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی صنعت میں پرزے کئی مرتبہ سرحد عبور کرتے ہیں، اس لیے معمولی وقت کی بچت بھی مجموعی پیداوار اور لاگت پر بڑا اثر ڈالتی ہے۔
کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نئے پل سے سپلائی چین میں تاخیر کم ہوگی، ایندھن اور مزدوری کے اخراجات گھٹیں گے اور قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بھی کسی حد تک کم ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بدخشاں میں طالبان اور افغان فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپیں جاری
گورڈی ہاؤ برج کی تعمیر پر 6.4 ارب امریکی ڈالر لاگت آئی، جو مکمل طور پر کینیڈا نے برداشت کی، اگرچہ پل کی ملکیت کینیڈا اور امریکی ریاست مشی گن کے پاس مشترکہ طور پر ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان نئے معاہدے کے تحت ابتدائی 15 برس تک پل سے حاصل ہونے والی ٹول آمدنی پہلے اس کی دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات پر خرچ کی جائے گی، جبکہ باقی رقم کا نصف حصہ کینیڈا اور نصف امریکا کے زیرِ انتظام اقتصادی ترقیاتی فنڈ کو دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں مطالبہ کیا تھا کہ امریکا کو مکمل معاوضہ دیے بغیر پل نہ کھولا جائے، جس کے باعث افتتاح میں بھی تاخیر ہوئی تھی۔ بعد ازاں دونوں ممالک نئے مالیاتی انتظامات پر متفق ہو گئے، جس کے بعد پل کو 27 جولائی سے مسافروں اور تجارتی ٹریفک کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گورڈی ہاؤ برج نہ صرف شمالی امریکا کی مصروف ترین سرحدی گزرگاہ پر دباؤ کم کرے گا بلکہ کینیڈا اور امریکا کے تجارتی تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔












