تہران ( پاک ترک نیوز) ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ گیارہویں روز بھی جاری ہے۔امریکی فورسز نے ایران کے فوجی آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب کویت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔ کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے؟ دیکھیے یہ رپورٹ۔
امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی فضائی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔ گیارہویں روز بھی امریکی طیاروں نے تبریز، سیریک، بوشہر اور خوزستان سمیت مختلف علاقوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جہاں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تہران میں ممکنہ نئے حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر فضائی دفاعی نظام مسلسل متحرک رہا اور مختلف مقامات پر اینٹی ایئرکرافٹ فائرنگ دیکھی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ایران اب تک تیس سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے، اسی لیے بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ آپریشن جاری رکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حملے میں اسلحہ گوداموں، بری افواج کے کمانڈ سینٹر سے منسلک لاجسٹک آلات اور فوجی تنصیبات کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی عوام پی آئی اے کا نیا روپ خود ڈیزائن کریں گے؟ کینوا کی قومی مقابلے کی تجویز
ایرانی کارروائیوں کے بعد کویت نے سخت سفارتی ردعمل دیتے ہوئے ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔ کویتی حکام نے اپنے آئل ٹینکر پر حملے اور ملکی سلامتی کو لاحق خطرات پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور واضح کیا کہ اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی حملوں کا مسلسل دائرہ وسیع ہونے اور ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خلیجی ممالک،عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت مزید شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔
گیارہ دن سے جاری اس تصادم نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک جانب امریکہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے مسلسل حملے کر رہا ہے، تو دوسری جانب ایران بھی اپنے جوابی اقدامات کا دائرہ وسیع کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا سفارت کاری اس جنگ کو روک پائے گی یا خطہ ایک مزید بڑے اور تباہ کن تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔












