لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد فراڈ کیس میں دو ملزمان کی عبوری ضمانت منظورکرلی ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے انصار علی سمیت دیگر کی درخواستوں پر 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ۔
لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا معاہدے پر بطور گواہ دستخط کرنا جعلسازی کا ثبوت نہیں، صرف پراپرٹی ڈیلر ہونے سے فراڈ ثابت نہیں ہوتا۔ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ملزمان کی بدنیتی ثابت ہو۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا مدعی کے مطابق ملزمان نے خود کو پراپرٹی ڈیلر ظاہر کر کے جعلی مالک سے پلاٹ کا سودا کرایا ،مدعی کے مطابق ملزمان نے پلاٹ کے لیے 64 لاکھ جعلی مالک کو دلوائے۔ مدعی کے مطابق اس نے پلاٹ کی تعمیر پر 40 لاکھ خرچ کیا بعد میں پلاٹ کا اصل دعوے دار سامنے آ گیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیادرخواست گزار کے مطابق پلاٹ کی خریدو فروخت مدعی اور مالک کے درمیان ہوئی۔درخواستگزار کے مطابق انہوں نے کوئی رقم وصول نہیں کی بس بطور گواہ دستخط کیے،مدعی کے مطابق رقم دیتے وقت کی ویڈیوز موجود ہیں جس میں ملزمان بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ،ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج
لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تصاویر سے صرف رقم گننے کا عمل ظاہر ہوتا ہے، فراڈ یا جعلسازی کا علم ثابت نہیں ہوتا، جعلی دستاویزات کی تیاری یا ان کے حصول میں ملزمان کا کردار بادی النظر میں ثابت نہیں ہوا، صرف یہ الزام کہ رقم ملزمان کے دفتر میں ادا ہوئی، گرفتاری کے لیے کافی نہیں،دھوکہ دہی ثابت کرنے کے لیے ابتدا ہی سے بدنیتی کا ہونا ضروری ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا ملزمان کی گرفتاری سے تحقیقات کا کوئی مؤثر مقصد پورا نہیں ہوگا، عدالت نے دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کرنے کا حکم دے دیا۔ملزمان پر لاہور کے تھانہ ہربنس پورہ میں فراڈ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا ۔












