لاہور( پاک ترک نیوز) تازہ عالمی رپورٹ نے ایسی تفصیلات سامنے لا دی ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں خوف کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے 82 فیصد ایٹمی ہتھیار صرف 2 ممالک کے پاس موجود ہیں؟ جی ہاں، امریکا اور روس اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقتیں سمجھے جاتے ہیں، اور ان کے پاس موجود ایٹمی وار ہیڈز پوری انسانیت کو کئی بار تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق روس تقریباً 4380 ایٹمی وار ہیڈز کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہے جبکہ امریکا 3700 وار ہیڈز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
دوسری جانب چین تیزی سے اپنی ایٹمی طاقت بڑھا رہا ہے اور اب اس کے پاس 620 سے زائد وار ہیڈز موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کے پاس تقریباً 190 جبکہ پاکستان کے پاس 170 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک زمین، فضا اور سمندر سے جوابی ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے نیوکلیئر ٹرائیڈ کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں ہر نئی پیش رفت کو انتہائی خطرناک نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
لیکن سب سے زیادہ خوفناک پہلو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا ایٹمی نظام میں داخل ہونا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں ایٹمی فیصلے اے آئی کے ذریعے ہونے لگے تو کسی تکنیکی خرابی یا غلط اندازے کی صورت میں دنیا ایک ایسے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے جس کا تصور بھی ہولناک ہے۔
دنیا اب صرف ایٹمی ہتھیار جمع نہیں کر رہی بلکہ انہیں مزید مہلک اور جدید بنانے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت ایک نئی سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ یا پھر دنیا کسی بڑے خطرناک تصادم کے قریب پہنچ چکی ہے؟









