تہران ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ، خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے۔
اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی کے بعد امریکا نے ایران پر جوابی وار کیا ۔امریکی افواج نے امریکی فوج نے ایرانی جزیرہ قشم اور سیریک پر حملے کیے ۔ایرانی صوبے ہرمزگان کے مشرقی علاقوں اور ساحلی شہر بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے۔۔۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹر گرانے کے جواب میں حملے کیے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلی کاپٹر گرائے جانے پر جوابی حملے کی وارننگ دی تھی۔۔۔
امریکی حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی ہے ، پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ کیا،کویت میں علی السالم فوجی اڈے کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا۔پاسدارن انقلاب کا کہنا ہے حملے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے،،،ایرانی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے مطابق امریکی حملوں سے سیریک میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا،حملوں میں 2 واٹر ٹینک بھی تباہ ہوئے۔ امریکی جارحیت برقرار رہی تو مزیدسخت جواب دیا جائے گا۔روسی میڈیا کا کہنا ہے ایرانی حملے میں امریکا کا ایم کیو نائن ڈرون تباہ ہو گیا ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے، میدانِ جنگ میں اپنی ناکامیوں کے باوجود، امریکا نے ہمارے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ہماری طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑیں گی۔اگر آپ محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے خطے سے نکل جائیں۔خلیجِ فارس کی تاریخ میں بیرونی مداخلت کرنے والوں کے عبرتناک انجام کی بے شمار داستانیں درج ہیں۔
امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ خطے میں مزید فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔












