اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سکھر-حیدرآباد موٹروے ایم سکس منصوبے کیلئے 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ منصوبے کی مجموعی مالی ضرورت 70 ارب روپے ہے۔
یہ بات منصوبہ بندی و ترقی ڈویژن کے سیکریٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات اور قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مشترکہ اجلاس میں بتائی۔
سیکریٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ منصوبے کیلئے 70 ارب روپے درکار ہیں، تاہم حتمی رقم مزید مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران اراکین نے منصوبے کی سست رفتار پیش رفت اور ناکافی فنڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر شہادت اعوان نے نشاندہی کی کہ 306 کلومیٹر طویل ایم-6 موٹروے، 1,522 کلومیٹر پر مشتمل پشاور کراچی موٹروے کوریڈور کا واحد نامکمل حصہ ہے۔ موجودہ فنڈنگ کے باعث منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔
چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور مطلوبہ اراضی کا حصول مکمل کر لیا گیا ۔
سینیٹر پرویز رشید نے ایم 6 منصوبے کو پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کی ایک اہم کڑی قرار دیتے ہوئے کمیٹی کی کوششوں کو سراہا۔اجلاس میں متعدد اراکین نے متعلقہ وفاقی وزیر کی عدم موجودگی پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ۔
کمیٹی نے بلوچستان میں سڑکوں کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا، خصوصاً کوئٹہ،ڈیرہ اسماعیل خان، گوادر-کراچی اور این-25 شاہراہوں کی حالت پر توجہ دلائی گئی











