بھارت کےاگنی-1 بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا اور انڈو پیسیفک خطے میں نئی اسٹریٹجک بحث چھیڑ دی گئی ،تجزیہ کاروں کے مطابق اب جوہری طاقت کی ساکھ صرف جدید ٹیکنالوجی کے مظاہروں سے نہیں بلکہ دفاعی نظام کی ہر سطح پر عملی تیاری اور مستقل آپریشنل صلاحیت سے جڑی ہوئی ہے۔
بظاہر اگنی-1 میزائل کا یہ تجربہ معمول کا لگ سکتا ہے، لیکن فوجی ماہرین اب کسی بھی اسٹریٹجک طاقت کا اندازہ اس کی جنگی پائیداری، لاجسٹک صلاحیت، لانچ سسٹم کی بقا، اور ہنگامی جنگی صورتحال میں فوری کارروائی کی استعداد سے لگاتے ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی کشیدگی پر نظر رکھنے والے دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ہر کامیاب میزائل تجربہ اب طاقت کے توازن اور جنگی حکمت عملی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں کشیدگی کے نظم و ضبط، بحران سے نمٹنے کی صلاحیت اور دفاعی استحکام کے اندازوں کو متاثر کر سکتا ہے۔












