لاہور( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگی ،واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی۔ ٹرمپ انتظامیہ ایک بار پھر ایکشن موڈ میں آ گئی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کیلئے ہنگامی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ،اجلاس میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی ،خفیہ آپریشن کے آپشنز پر غور ہو گیا ۔
امریکا کی قومی سلامتی کمیٹی کی اہم بیٹھک میں ں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ، سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلیف اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی شرکت متوقع ہے ،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ اب سفارتکاری سے زیادہ فوجی دباؤ” کی پالیسی کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں اس کا مقصد ایران کو نیوکلیئر پروگرام پر مزید رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو احمقانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ،کہتے ہیں ایران کے نام نہاد نمائندوں کا ردعمل ناقابلِ قبول ہے۔۔۔ جنگ بندی اس وقت لائف سپورٹ پرہے اور کسی بھی لمحے ختم ہوسکتا ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی، تہران ایک مؤقف اختیار کرکے پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں،، سب کچھ مشرق وسطی میں اپنے اتحادیوں کے لئے کر رہے ہیں۔ہم نے ایران میں اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں، ، ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ حملے کریں گے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے سابق صدر باراک اوباما اور جوبائیڈن کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ،کہتے ہیں اگر اوباما یا بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے۔۔۔ اوباما کی ایران ڈیل امریکا کی سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطیوں میں سے ایک تھی۔
ایران نے بھی امریکا کو دو ٹوک اور سخت جواب دے دیا ،ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کہتے ہیں ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ہماری فوج بالکل تیار ہے، ،غلط حکمت عملی اور غلط فیصلے ہمیشہ غلط نتائج کا باعث بنتے ہیں، پوری دنیا نے پہلے ہی اس کا اندازہ لگا لیا ہے، ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے، مخالفین حیران رہ جائیں گے
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہناہے واشنگٹن کے مطالبات غیر معقول ہیں ، ایران صرف اپنے حقوق اور خطے کے امن کا تحفظ چاہتا ہے، جنگ مسلط ہوئی تو کرارا جواب دیا جائے گاایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ ثالث اب بھی پاکستان ہے،، قطر سمیت دیگر ممالک بھی کشیدگی میں کمی کے لئے فریقین سے رابطے میں ہیں، تہران صرف اپنے حقوق کے تحفظ کا خواہاں ہے،، امریکہ کو فراخدلانہ اور ذمہ دارانہ تجاویز پیش کیں،ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کھولنا جائز مطالبات ہیں،، ایران کے تمام مطالبات خطے کی سکیورٹی کے لئے ضروری ہیں۔
دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ دوبارہ بھڑکی تو صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا شدید معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافے اور نئی عالمی تقسیم کا شکار ہوسکتی ہے۔
سوال اب یہ ہے۔۔۔ کیا سفارتکاری آخری سانسیں لے رہی ہے؟۔۔۔ کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی تباہ کن جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے؟۔۔۔ اور اگر واشنگٹن نے دوبارہ حملہ کیا۔۔۔ تو کیا تہران پورے خطے کو آگ میں دھکیل دے گا؟۔۔۔ دنیا اگلے چند گھنٹوں کو انتہائی تشویش سے دیکھ رہی ہے۔












