لاہور( پاک ترک نیوز) پنجاب میں آئندہ تین ماہ کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے تمام متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ مراسلے میں مئی، جون اور جولائی کے دوران ممکنہ موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف محکموں کو الرٹ رہنے اور ہنگامی منصوبہ بندی مکمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق رواں سال موسم گرما کے ابتدائی مہینوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ مون سون سے قبل اور مون سون کے آغاز پر شدید بارشیں بھی متوقع ہیں۔ اس صورتحال کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، بجلی کی فراہمی متاثر ہونے اور گرمی کی شدت سے انسانی صحت پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مراسلے میں محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں میں ضروری ادویات، طبی عملہ اور ایمرجنسی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اسی طرح ریسکیو اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔
محکمہ آبپاشی، بلدیاتی اداروں اور واسا حکام کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھا جائے اور نالوں و ڈرینز کی بروقت صفائی مکمل کی جائے تاکہ شدید بارشوں کی صورت میں شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا نہ ہو۔ دیہی علاقوں میں فصلوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے محکمہ زراعت کو بھی کسانوں میں آگاہی مہم چلانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں موسموں کی شدت میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کبھی غیر معمولی گرمی، کبھی بے وقت بارشیں اور کبھی اچانک سیلاب جیسی صورتحال معمول بنتی جا رہی ہے۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ برسوں کے دوران شدید بارشوں اور ہیٹ ویوز نے بڑے پیمانے پر عوامی زندگی کو متاثر کیا تھا، جس کے بعد حکومتیں اب پیشگی اقدامات پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ شدید گرمی اور خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ ممکنہ نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔












