تہران ( پاک ترک نیوز) آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران میں ڈیڈ لاک۔ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو جوہری مزاکرات سےالگ کرنے کی تجویز دے دی ،امریکا فی الحال یہ تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں ، ،دنیا کی سب سے اہم گزر گاہ بند ہونے سے عالمی معیشت خطرے میں پڑ گئی کیا جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں یا سفارتکاری کوئی راستہ نکال لے گی؟
امریکی صدر نے تنازع میں کمی کے لئے ایران کی حالیہ تجویز پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے ،۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز پر سکیورٹی ٹیم سے مشاورت کی ہے ۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ فی الوقت صرف آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مواد کے معاملےمذکرات موخر کرنے کی تجویز پر خوش نہیں ۔ حکام کے مطابق ایران کی جوہری افزودگی یا یورینیم کے ذخیرےسے متعلق سوالات حل کئے بغیر آبنائے ہرمز کو کھولنا مذاکرات میں امریکی دباؤ کو کمزور کر سکتا ہے ۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے ایرانی تجاویز پر غور جاری ہے ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیش کش کی ہے ،ایران کے ایٹمی ہتھیار امریکا کو قبول نہیں ۔ ، تاہم آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے کسی آپریشن سے متعلق معلومات نہیں ، صدرٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکا نے ایران اور ایک اور دھمکی دیتے ہوئے کہا آبنائے ہرمز عالمی بحری راستہ ہے، کون گزرے گا، فیصلے کا اختیار ایران کو نہیں،، عالمی گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے،، وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ایران کی بحری راستوں پر مرضی مسلط کرنے کی کوششوں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی ایک اور بڑے اسلامی ملک سے جنگ کا امکان
دھونس، دھمکیوں یا طاقت کے زور پر بحری راستے بند کرنا قابل قبول نہیں، ایران کی اجازت یا اسے ادائیگی کرکے بحری جہاز گزرنا راستہ کھلنا نہیں کہلاتا۔
یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی گزرگاہ کو فوری کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔آبنائے ہرمز کی بندش پراقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ کوئی ٹول ٹیکس نہیں، تجارت بحال ہونے دی جائے، عالمی معیشت کو سانس لینے دیں۔
سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستانی مستقبل مندوب عاصم افتخار نے کہا آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی، خوراک اور سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہےآبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑے گا،سمندری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ ہیں، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔
موجودہ صورتحال کے بعد کیا کشیدگی بڑھے گی یا سفارتکاری جیت جائے گی ،اس کا فیصلہ چند دنوں میں متوقع ہے۔












