لاہور( پاک ترک نیوز) Ataraxisکی دو ہزار چھبیس کی عالمی آؤٹ سورسنگ ٹیلنٹ درجہ بندی کے مطابق پاکستان 193ممالک میں سے 16ویں نمبر پر ہے،یعنی دنیا کے ٹاپ نو فیصد ملکوں میں شامل ہے۔
پاکستان چین ،کولمبیا ،جرمنی ،برطانیہ ،فرانس سے بھی آگے ہےپاکستان کا صلاحیت کا اسکور 80 میں سے 100 ہے، جو اس مخصوص معیار میں اسے دنیا بھر میں آٹھویں نمبر پر لے آتا ہے۔ اس بنیاد پر پاکستان یورپی یونین، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے تمام ممالک سے آگے ہے۔ٹیلنٹ درجہ بندی میں پاکستان کا 16واں نمبر حاصل کرنا معمولی بات نہیں۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اب صرف سستی لیبر نہیں بلکہ ہنر مند افرادی قوت کی عالمی منڈی میں مضبوط کھلاڑی بن چکا ہے۔
پاکستان میں لاکھوں نوجوان اپ ورک اور فائیور سے لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں ،آئی سکلز میں تیزی آ رہی ہے ،ویب ڈویلپمنٹ،گرافک ڈیزائن،ڈیجیٹل مارکیٹنگ،ڈیٹا اینالیسس جیسی ایسی اسکلز ہیں جن میں پاکستانی نوجوان تیزی سے مہارت حاصل کر رہے ہیں۔
عالمی کمپنیاں اب پاکستان کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں،ریموٹ ورک میں پاکستان کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے،آئی ٹی ایکسپورٹس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل ورک فورس کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے ،پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل ہیں ،پالیسی میں عدم تسلسل،اسکلز اور تعلیم میں گیپ،عالمی برانڈنگ کی کمی شامل ہے ،اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو یہ ترقی رک بھی سکتی ہے۔
اگر پاکستان نے آئی اسکلز میں سرمایہ کاری بڑھائی،نوجوانوں کو جدید اسکلز دی،انٹرنیٹ اور انفراسٹرکچر بہتر کیا،تو آنے والے 5 سال میں پاکستان دنیا کے ٹاپ 10 آؤٹ سورسنگ ممالک میں مستقل جگہ بنا سکتا ہے۔












