اسلام آباد (پاک ترک نیوز )چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 60واں اجلاس ہوا جس میں لاہور، پشاور، سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے نمائندہ ججز نے شرکت کی
اجلاس میں کمیٹی نے ادارہ جاتی استعدادِ کار، انصاف تک رسائی اور مؤثر نظامِ فراہمیٔ انصاف مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سیکریٹری قانون نے بریفنگ میں کہا حکومت نے لاپتہ افراد کے مقدمات کے لیے علیحدہ کمیشن قائم کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے،مجوزہ کمیشن جسٹس ریٹائرڈ منظور احمد ملک اور چیئرپرسن نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس محترمہ رابعہ جویری آغا پر مشتمل ہوگا۔
سیکٹری قانون نے کہا مجوزہ کمیشن گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں میں عدالت کے سامنے پیش کرنے سے متعلق قانونی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گا،کمیٹی نے لاپتہ افراد کے معاملے پر حکومتی اقدامات کو سراہا۔کمیٹی نے مجوزہ کمیشن کے قواعدِ کار آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ضلعی عدالتوں نے یکم ستمبر 2025 سے 31 مئی 2026 تک ترجیحی نوعیت کے 13 لاکھ 19 ہزار 390 مقدمات نمٹا دیئے۔لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت ضلعی عدالتوں نے سب سے زیادہ 10 لاکھ 65 ہزار 375 مقدمات نمٹائے
پشاور ہائیکورٹ پشاور ہائی کورٹ کے ماتحت ضلعی عدالتوں نے ایک لاکھ 23 ہزار 51 مقدمات نمٹائے،ہائی کورٹ آف سندھ کے ماتحت ضلعی عدالتوں نے 87 ہزار 219 مقدمات نمٹائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت ضلعی عدالتوں نے 27 ہزار 465 مقدمات نمٹائے۔ہائی کورٹ آف بلوچستان کے ماتحت ضلعی عدالتوں نے 16 ہزار 280 مقدمات نمٹائے
اجلاس میں بینکنگ کورٹس کے ججوں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرامز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور بینکنگ کورٹس کو حکمِ امتناع سے متعلق قانونی دفعات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ،غیر سنجیدہ مقدمہ بازی روکنے کے لیے اخراجات سے متعلق قانونی دفعات کے مؤثر اطلاق پر زور دیا گیا
کمیٹی نے ضلعی عدلیہ میں چھ روزہ ورکنگ ویک بحال کرنے کی منظوری دے دی،ضلعی عدلیہ تین ہفتہ وار تعطیلات کی پالیسی سے قبل موجودہ شیڈول کے مطابق کام کر سکے گی۔کمیٹی نے ہائی کورٹس کو وسائل کے مؤثر استعمال اور توانائی بچت کے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔






