لاہور( پاک ترک نیوز) بدلتی جنگ میں بدلتا چنوک ،کیا ہیلی کاپٹر اب ڈرون کیریئر بن جائے گا ،،جدید جنگی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں اب صرف طاقت نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اصل ہتھیار بنتی جا رہی ہے۔ امریکی بوئنگ چنوک سی ایچ 47 ہیلی کاپٹر اڑتا ہوا ڈرون پلیٹ فارم بن گیا ۔
امریکا میں بوئنگ کمپنی کی جاری ویڈیو نے دفاعی ماہرین کو چونکا دیا ۔ ویڈیو میں چنوک کے پچھلے دروازے سے جدید ڈرونز جنہیں لانچڈ ایفیکٹس کہا جاتا ہے کو فضا میں چھوڑتے دکھایا گیا۔ یہ کوئی عام ڈرونز نہیں، بلکہ ایسے خودکار نظام ہیں جو جاسوسی، الیکٹرانک جنگ، دھوکہ دہی اور حتیٰ کہ خودکش حملوں تک کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
بوئنگ چنوک کو صرف ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم نہیں بنا رہا، بلکہ اسے سمارٹ بھی بنا رہا ہے۔ جدید سسٹمز جیسے APAS اور DAFCS کے ذریعے اب یہ ہیلی کاپٹر خودکار لینڈنگ کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ یعنی وہ دن دور نہیں جب چنوک بغیر پائلٹ کے بھی مشن مکمل کر سکے گا۔
چنوک ایک ساتھ بڑی تعداد میں حتیٰ کہ بڑے سائز کے ڈرونز بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مستقبل میں ایسے ڈرونز کی رینج 650 کلومیٹر تک اور پرواز کا دورانیہ ایک گھنٹے تک ہو سکتا ہے، جو میدانِ جنگ میں ایک نئی جہت پیدا کرے گا۔ بوئنگ حکام کے مطابق، کمپنی اس ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور جلد عملی مظاہرہ بھی متوقع ہے۔
بوئنگ کے مطابق ابھی تک چنوک سے ان ڈرونز کا عملی تجربہ نہیں ہوا، لیکن کمپنی اس پر کام کر رہی ہے اور جلد مظاہرے کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے امریکی فوج بھی ہیلی کاپٹر سے ڈرون لانچ کرنے کا تجربہ کر چکی ہے۔
چنوک اب صرف ایک ہیلی کاپٹر نہیں رہا، بلکہ مستقبل کی جنگ کا ایک اہم پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے—ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں سے نہ صرف فوجی اتریں گے بلکہ ڈرونز کی پوری “فوج” بھی پرواز کرے گی۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس نئی جنگ میں انسان کا کردار کتنا باقی رہ جائے گا؟












