نیو یارک ( پاک ترک نیوز) آج فلسطینی مسئلے کے پر امن اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقادنیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر د فتر میں ہو رہا ہے۔ کانفرنس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس کر رہے ہیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک ایسا عملی اور با معنی راستہ نکالنا ہے جو فلسطینی ریاست کے اعتراف کو تقویت دے اور علاقائی سطح پر امن کی بحالی ممکن بنائے۔
اس کانفرنس کے حوالے سے 8 کمیٹیاں جون سے ہی اپنا کام شروع کر چکی ہیں۔ جن کا مقصد فلسطینی ریاست کے فریم ورک سے متعلق اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی پہلوؤں پر مشترکہ تصورات تیار کرنا ہے۔ ان کمیٹیوں میں شامل ممالک میں اسپین، اردن، انڈونیشیا، اٹلی، پاکستان،جاپان، ناروے، مصر، برطانیہ، ترکی، میکسیکو، برازیل، سینیگال، عرب لیگ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ یہ "یومِ امن” کی کوششوں سے متعلق ایک گروپ کی شکل میں کام کر رہی ہیں۔
اسی تناظر میں، کانفرنس کا مقصد اسرائیلی خلاف ورزیوں کی فوری روک تھام، اور دو ریاستی حل کے ذریعے اس دیرینہ تنازع کے خاتمے کے لیے پیش رفت یقینی بنانا ہے۔ اب متعدد ممالک دو ریاستی حل کو امن کے واحد ممکنہ راستے کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ یورپی یونین کے ممالک نے اس کانفرنس کو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے یورپی اتحاد کے لیے بھی ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے۔
کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ان کے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو، فلسطینی وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصطفی، قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن،اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اقوامِ متحدہ میں ان کے سفارتی نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔












