لاہور( پاک ترک نیوز) خلا میں لکڑی کا سیٹلائٹ، جاپان کا حیران کن تجربہ، کیا خلائی کچرے کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟
جو کبھی انسان کے خوابوں کی دنیا تھا، اب تیزی سے ایک نئے مسئلے کا شکار ہو رہا ہے۔ زمین کے گرد ہزاروں ناکارہ سیٹلائٹس اور ان کے ٹکڑے گردش کر رہے ہیں، جنہیں خلائی ملبہ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں خلا مشنز کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے جاپان نے ایک ایسا تصور پیش کیا ہے جو کسی سائنس فکشن فلم جیسا لگتا ہے۔ جاپانی محققین نے لکڑی سے تیار کیا گیا ایک چھوٹا سیٹلائٹ خلا میں بھیجا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ لکڑی خلا کے ماحول میں کس طرح کام کرتی ہے۔
ماہرین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا لکڑی خلا کے سخت ماحول، خلا کے خلا اور درجہ حرارت کی شدید تبدیلیوں کو برداشت کر سکتی ہے۔
اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں ایسے سیٹلائٹس بنائے جا سکتے ہیں جو زمین کی فضا میں داخل ہو کر مکمل طور پر جل جائیں اور خطرناک دھاتی ذرات خلا میں نہ چھوڑیں۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں سیٹلائٹس لکڑی جیسے قدرتی مواد سے بنائے جائیں تو جب وہ زمین کے ماحول میں واپس داخل ہوں گے تو مکمل طور پر جل کر ختم ہو جائیں گے اور خطرناک دھاتی ذرات فضا میں نہیں چھوڑیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں خلا کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہونے سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یوں جاپان کا یہ بظاہر عجیب مگر ذہین خیال دراصل خلا کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔












