اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومت کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے کیا گیا، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول مہنگا ہونے کے بعد مہنگائی کئی شعبوں میں بڑھتی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے سے بسوں ٹرکوں رکشوں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ زرعی اخراجات بڑھ جاتے ہیں پاکستان میں ٹریکٹر ٹیوب ویل زرعی مشینری زیادہ تر ڈیزل پر چلتی ہے، اس لیے کاشتکاری مہنگی ہو جاتی ہے۔ آٹا اور خوراک مہنگی جب گندم کی کٹائی فلور مل تک ٹرانسپورٹ مارکیٹ تک سپلائی مہنگی ہو جاتی ہے تو آٹے کی قیمت بڑھنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
پٹرول مہنگا ہونے سے سبزیاں دالیں پھل دودھ تعمیراتی سامان سب کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ اور مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے۔ پٹرول میں اس بڑے اضافے کے بعد عام شہری کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو آنے والے ہفتوں میں مزید مہنگائی ہو سکتی ہے












