لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور کے شاہی قلعے کے اکبری دروازے کے ساتھ اندرون لاہور کے بارہ تاریخی دروازوں میں ایک مستی دروازے میں واقعہ بیگم شاہی مسجد مغل دور کی یاد دلاتی ہے ،بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسجد بھی تاریخ کے اوراق میں گم ہورہی ہے ۔
بیگم شاہی مسجد مغلیہ طرز تعمیر ، قرانی آیات ،کاشی اور کانسی کاری کا حسین امتزاج ہے ،سولہ سو گیارہ سے سولہ سو چودہ کے درمیان مغل شہنشاہ جہانگیر نے مسجد تعمیر کرائی ۔
خشخی اینٹ ،مغلیہ طرز تعمیر ، قرانی آیات ،کاشی اور کانسی کاری کا حسین امتزاج بیگم شاہی شاہی قلعہ کے عقب میں مستی گیٹ کے ساتھ موجود ہے،مسجد کے دو دروازے ہیں ،اندر داخل ہوں تو دائیں طرف مسجد اور بائیں طرف مسجد کا حصہ ہے جبکہ دالان میں وضو کے لئیے حوض ہے اور سامنے مرکزی حصہ نظر آتا ہے ۔
مسجد پہلی بار سکھ دور حکومت میں زیر عتاب آئی جب اسے بارود خانہ میں بدل دیا گیا بعد ازاں برطانوی حکومت نے واپس مسجد کی صورت میں بحال کیا،،، اب مسجد کے قریب تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک نے مغل بادشاہ اکبر کی اہلیہ مریم زمانی سے منسوب اس مسجد کا حسن گہنا دیا ۔۔ لاہور کی والڈ سٹی اتھارڑی نے مسجد کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔












