
از: سہیل شہریار
ماضی کے برعکس پاکستان کی دفاعی صنعت نے اب کھل کر دنیا کو اپنی صلاحیتوں کے بارے میںآگاہ کرنا اور اپنی جدید ترین دفاعی مصنوعات کی وسیع رینج کو خریداروں کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ تمام جنگی مصنوعات اور ہتھیار کسی اور تیار کنندہ کے لائسنس کے تحت نہیں بنائے جارہےجیسا کے ماضی میں ہوتا تھا ۔بلکہ یہ تصور، تحقیق اور تیاری سے لیکر انضمام تک کلیتاً پاکستانی ہیں۔
دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان کے دفاعی صنعتی اداروں نے اپنی صلاحیتوں کا پہلا بھر پور مظاہرہ گذشتہ ماہ سعودی عرب میں ہونے والے ریاض عالمی دفاعی شو 2026کے دوران کیا۔ان میںگلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (جی آئی ڈی ایس) نے اپنے بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (یو اے ایس) کی وسیع رینج کی نمائش کی جس میں شاہپر II اور شاہپر III ڈرونز سے لے کر طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والا جدید خود کار نظام یلغار ۔200 اور لاؤٹرنگ اسلحہ کی بلیز سیریز ۔ اس کےساتھ اسٹینڈ آف ہتھیاروں (ایس او ڈبلیو) کی رینج چاہے وہ ہوائی جہاز سے لانچ کیےجانے والے اسٹیلتھ میزائل تیمور اور AZB-81LR ہوںیا زمین سے فضا میں مار کرنے والے فتح میزائل ہوں یا پھر فضا سے فضا اور زمین پر مار کرنے والے SMASH سیریز کے میزائل اور اسی ساتھ AZB میزائل سیریز کی رینج بڑھانے کی کٹس اورربیٹ الیکٹرانک امدادی اقدامات سسٹم (ای ایم ایس) اور دیگر آلات شامل تھے۔
دفاعی سازو سامان کے اسی شو میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) نے اس کی جانب سے سعودی عرب ملٹری انڈسٹریز (ایس اے ایم آئی) کے لیےمکمل طور پر اپنے وسائل سے بنائی جانے والی 155ایم ایم/52کیلیبر کی گاڑی پر نصب خودکار ہوئٹزر توپ بھی پیش کی ۔ اب یہ پاکستانی ساختہ ہتھیارنہ صرف پاکستان کی مسلح افواج بلکہ سعودی عرب کی طرح دنیا بھر کے خریداروں کے لئے دستیاب ہے۔
اور آخر میں ریاض عالمی دفاعی شو کے دوران کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (کے ایس ای ڈبلیو) کو جناح کلاس کا فریگیٹ بنانے کا پہلا ٹھیکہ بھی ملا۔ یہ ایک مکمل طور پرپاکستانی ساختہ بحری جنگی جہاز ہے جسے ترکی کے تعاون سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
نئی نسل کے ان تمام جنگی آلات اور ہتھیاروں میںقدر مشترک یہ ہے کہ انہیں پاکستان نے خود یا ترکیہ اور چین جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا ہے۔ مگر ان تمام دفاعی مصنوعات کے تخلیقی و دانشورانہ حقوق (آئی پی) کے مالک پاکستانی ادارے ہیں۔اور وہ مکمل طور پر بااختیار ہیں کہ اپنی ان مصنوعات میں گاہکوں کے مطالبے یا حسب ضرورت تبدیلی کر سکے۔
یہ یقیناً پاکستان کی دفاعی صنعت کے پچھلے دور سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں کلیدی وینڈرز جیسے کہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس یا کراچی شپ یارڈ اینڈ انجئینر نگ ورکس اورہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا غیر ملکی اصل سازوسامان کےاصل تیار کنندگان(او ای ایم) کو جوابدہ اور ان پر انحصار کرتے تھے۔ چنانچہ اگر اصل تیار کنندگان یا انکی حکومتیںپاکستانی اداروں کو انکی دفاعی مصنوعات کسی اور کو فروخت کرنے کی اجازت نہ دیتیں تو پاکستان کے لئے جے ایف۔17تھنڈر فائٹر ،آگوسٹا 90بی آب دوز اور الخالد ٹینک کسی تیسرے ملک کو فروخت نہیں کر سکتا تھا۔












