لوساکا(پاک ترک نیوز)افریقی ملک زیمبیا نے سونے کی مقامی سطح پر صفائی اور پراسیسنگ کے لیے نئی ریفائنری کا افتتاح کردیا، جس کا مقصد قدرتی وسائل سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کرنا اور سونے کی برآمدات میں اضافے کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
کمپنی منیرا ریفائنریز زیمبیا لمیٹڈ کے تیار کردہ اس منصوبے کے تحت سونے کو 99 فیصد سے 99.99 فیصد تک خالص بنانے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔
کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ سونے کی کان کنی کو باضابطہ بنانے، چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے کان کنوں کی معاونت اور سونے کی خرید و فروخت میں شفافیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
منیرا ریفائنریز زیمبیا لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اینڈریو موکوپا کاتاندولا نے سونے کی غیر رسمی کان کنی کو باضابطہ نظام میں لانے کے لیے دو سالہ منصوبے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ اس منصوبے میں کان کنوں کو مالی معاونت فراہم کرنے اور سونے کی پیداوار و تجارت کی نگرانی بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق زیمبیا کی معیشت میں تانبے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ 2024 میں تانبا ملک کی مجموعی اشیا کی برآمدات کا 66 فیصد تھا، جس کی مالیت تقریباً 7.5 ارب ڈالر رہی۔ اس کے برعکس سونے کا برآمدی آمدنی میں حصہ صرف 2 فیصد، یعنی تقریباً 262 ملین ڈالر تھا۔
ماہرین کے مطابق نئی ریفائنری زیمبیا کو سونے کی مقامی پیداوار سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے، معدنی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور چھوٹے کان کنوں کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار سونے کی مسلسل فراہمی، شفاف کاروباری نظام اور ریفائنری کی عملی پیداواری صلاحیت پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کا کم لاگت جیٹ انٹرسیپٹر ڈرون تیار کرنے کا منصوبہ
زیمبیا سے پہلے نائجیریا، جمہوریہ کانگو، برکینا فاسو اور ایتھوپیا سمیت کئی افریقی ممالک سونے اور قیمتی دھاتوں کی مقامی ریفائننگ کے منصوبے شروع کرچکے ہیں۔








