واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر بروز منگل ہوں گے، جن کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ دو سالہ حکومتی حکمت عملی اور سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ انتخابات میں فیصلہ ہوگا کہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول کس سیاسی جماعت کے پاس رہے گا۔وسط مدتی انتخابات امریکی صدر کی چار سالہ مدت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں جبکہ سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر ووٹنگ ہوتی ہے۔
اس وقت امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، تاہم ڈیموکریٹک پارٹی بھی ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے میدان میں ہے۔امریکی سینیٹ میں اس وقت ری پبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہوگا۔ایوانِ نمائندگان میں بھی ری پبلکنز کو معمولی برتری حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو یہاں بھی کم از کم چار نشستیں حاصل کرکے اکثریت کا ہدف پورا کرنا ہوگا۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی بھی انتخابات کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد مہنگائی، اخراجاتِ زندگی اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر تحفظات رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے سیاحتی مقام کاپاڈوشیا میں چٹان گر گئی ، 3 افراد ہلاک، 5 زخمی
خبر رساں ادارے رائٹرز اور ادارے اِپسوس کے 26 اکتوبر کو مکمل ہونے والے سروے کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی شرح 32 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ایک فیصد بہتری کے باوجود انتہائی کم سطح پر ہے۔ اسی سروے میں ایوانِ کانگریس کے انتخاب کے لیے ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز پر برتری حاصل تھی۔ اگر ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو صدر ٹرمپ کو قانون سازی اور حکومتی منصوبوں پر عمل درآمد میں نسبتاً آسانی رہے گی۔اس کے برعکس اگر ڈیموکریٹس ایک یا دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور دیگر حکومتی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس کو صدارتی انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی، تحقیقات اور حکومتی عہدیداروں سے جواب طلب کرنے کے لیے بھی زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔ یوں 3 نومبر کے انتخابات صرف کانگریس کی نشستوں کا مقابلہ نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی ماندہ صدارتی مدت کے لیے سیاسی طاقت اور حکومتی پالیسیوں کی سمت کا بھی اہم امتحان ہوں گے۔












