اسلام آباد:(پاک ترک نیوز)پاکستان نے غزہ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے عالمی سطح پر بنائے گئے ایک اہم سفارتی فورم میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے اس فورم میں شمولیت اس مقصد کے تحت اختیار کی ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے، امدادی سرگرمیوں میں اضافے اور تعمیرِ نو کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ وزیرِاعظم شہباز شریف کو امریکی صدر کی جانب سے موصول ہونے والی دعوت کے بعد کیا گیا، جس میں غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت امن منصوبے کی حمایت پر زور دیا گیا تھا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف فوری انسانی امداد ممکن ہو گی بلکہ فلسطینی عوام کے دیرینہ حقوق کے حصول کی راہ بھی ہموار ہو گی۔دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اس عمل کو فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت سے جوڑ کر دیکھتا ہے اور اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ اس سفارتی فریم ورک کے نتیجے میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار اور مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اس عالمی امن فورم میں پاکستان کے ساتھ ترکیہ، سعودی عرب، مصر، اردن، قطر اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔ ترکیہ کی جانب سے وزیرِ خارجہ حکان فدان اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے، جب کہ ان کا کہنا ہے کہ ترکیہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے گا۔
ذرائع کے مطابق عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر بھی غزہ کی صورتحال، امن اقدامات اور علاقائی استحکام پر اہم مشاورت متوقع ہے، جس میں متعلقہ ممالک کے اعلیٰ سفارتی نمائندے شریک ہوں گے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے عالمی کوششوں میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔












