ہفتہ , 24 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home اہم ترین

پنجاب میں سیلاب سے کئی شہروں کے بند ٹوٹ گئے، دیہات زیر آب، رابطے منقطع

1 سال پہلے
A A
پنجاب میں سیلاب سے کئی شہروں کے بند ٹوٹ گئے، دیہات زیر آب، رابطے منقطع
Share on Facebookwhatsapp

لاہور، قصور، بہاولپور، جھنگ(پاک ترک نیوز ) لاہور سے سیلاب کا خطرہ ٹل گیا، قصور کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزر گیا، ملتان میں آج بڑا ریلا داخل ہوگا، پاکپتن، احمد پور شرقیہ، چشتیاں میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آ گئیں اور رابطے منقطع ہو گئے۔
راوی، چناب اور ستلج کے بپھرنے سے پنجاب کے 1769 موضع جات زیر آب ہیں اور پندرہ لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ گنڈا سنگھ پر اس وقت پانی کا بہاؤ تین لاکھ تین ہزار کیوسک ہے، جس کے باعث فوج اور ضلعی انتظامیہ نے رات کے دوران 20 دیہات کو خالی کروایا، ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ اگلے 24 گھنٹے میں ہیڈ اسلام کے لیے خطرات لاحق ہیں۔
ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ پچہتر ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور قادر آباد برج پر پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے، ہیڈ تریمو پر کل صبح چھ سے نو بجے جھنگ کے مقام پر نو لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔
راوی میں دو لاکھ بیس ہزار کیوسک کا ریلا پہلے ہی گزر چکا ہے اور اس وقت ایک لاکھ انتیس ہزار کیوسک کا ریلا موجود ہے، بلوکی میں دو لاکھ گیارہ ہزار کیوسک اور ننکانہ صاحب سے بیس ہزار کیوسک پانی شامل ہو چکا ہے۔
ہیڈ محمد والا پر سات لاکھ کیوسک کا ریلا ملتان تک پہنچے گا، جہاں شگاف ڈالنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
اس سے قل ڈائریکٹر جنرل پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا تھا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے سبب پانی قصور کی طرف بڑھا، دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا ہے۔ قصور شہرکو بچانےکا چیلنج درپیش ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور اب بالکل محفوظ ہے جبکہ دریائے راوی میں طغیانی کے سبب آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت لاہور سے نیچے کے اضلاع کے لیے سخت ہوں گے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک سیلاب کے باعث صوبے میں 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم بروقت ریسکیو آپریشنز کے باعث مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔
بھارتی مقبوضہ علاقے سے آزاد کشمیر میں دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا گیا ہے، بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی کا ریلا کنٹرول لائن چکوٹھی کے مقام سے آزاد کشمیر میں داخل ہو رہا ہے۔
چنیوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 2 گھنٹوں سے زائد وقت سے ملسل بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ شیخوپورہ اور گرد و نواح میں تیز بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔
جہلم شہر اور گرد و نواح میں بارش سے ندی نالے بپھر گئے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، ندی نالوں کا پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ مسلسل بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکپتن میں اونچے درجے کے آبی ریلے نے تباہی مچادی جس کے باعث متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے جبکہ کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں، اہم سڑک کے ڈوبنے سے کئی آبادیوں کا زمینی راستہ منقطع ہوگیا ہے جس سے علاقہ مکینوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔
ظفروال سے لہڑی کو ملانے والے واحد راستے پر شگاف پڑ گیا، درجنوں دیہات کا رابطہ منقطع ہوگیا، ہزاروں ایکڑ پر چاول کی فصلیں تباہ ہوگئیں، سیالکوٹ کے قصبہ بڈیانہ سے گزرنے والے برساتی نالے نے تباہی مچا دی، گردونواح کی آبادیاں زیر آب آ گئیں۔
سیالکوٹ پسرور روڈ ٹریفک کیلئے بند کردی گئی، بجوات کے 85 دیہات کا سیالکوٹ سے زمینی رابط منقطع ہوگیا، سیلابی پانی کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔
ملتان کی حدود میں آج شام تک سیلاب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے، 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے پر انتظامیہ سے شکوہ کیا ہے۔
جلالپور پیروالا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جس سے 140دیہات متاثر ہوئے ہیں، راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کےپیش نظر نشیبی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔
بہاولپور میں دریائے ستلج کےکناروں پر نشیبی علاقوں کے مکینوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ دریائی اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی جارہی ہے۔
دریائے چناب کے سیلابی ریلے کے بعد وزیر آباد اور حافظ آباد کے علاقے متاثر ہیں، حافظ آباد کے چالیس دیہات اب بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔
چشتیاں کے نواحی علاقوں میں ستلج کی طغیانی سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔
لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح میں کمی ہونے لگی ہے، اس وقت شاہدرہ کے مقام سے ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک ریلا گزر رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر ایک لاکھ 90 ہزار کیوسک سے زائد کا ریلا گزر رہا تھا، جس کے بعد کئی بستیاں پانی میں ڈوب گئی تھیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے، 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک تک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے۔
بند توڑ کے بہاؤ کا رخ بدلنے کی صورت میں 8 لاکھ 25 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے متوقع ہیں، گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 لاکھ سے11 لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں شدید اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، بالائی علاقوں میں موجود شدید بہاؤ نشیبی علاقوں میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
پنجاب کے بعد صوبہ بلوچستان بھی سیلاب کی زد میں آنے کا امکان ظاہر کر دیا گیا ہے۔
وزیر آبپاشی بلوچستان صادق عمرانی نے کہا ہے کہ 2 ستمبر کو سیلاب دریائے سندھ سے بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان بتایا گیا ہے، جعفر آباد، روجھان، اوستہ محمد، صحبت پور کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
صادق عمرانی نے آگاہ کیا کہ سندھ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کیمپ آفس نصیرآباد میں قائم کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق اب تک دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 92,844 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
گذشتہ روز پنجاب بھر کے سیلابی علاقوں سے 20,954 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جن میں بہاولپور سے 10,063، پاکپتن سے 1,547، قصور سے 1,434، اوکاڑہ سے 1,223، ننکانہ صاحب سے 1,072، حافظ آباد سے 1,035 اور دیگر شہروں سے متعدد افراد شامل ہیں۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق اب تک بہاولپور سے 20,552، قصور سے 14,574، پاکپتن سے 8,778، اوکاڑہ سے 7,422، گوجرانوالہ سے 4,830، وہاڑی سے 4,253 اور دیگر شہروں سے ہزاروں افراد کو ریسکیو اور ٹرانسپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 808 ریسکیو بوٹس (کشتیاں) آپریشنل ہیں جبکہ 1,800 سے زائد تربیت یافتہ ریسکیو سکاؤٹس بھی ایمرجنسی سروسز کے ساتھ متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔
فاروق احمد نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں 1122 پر کال کرکے اپنی لوکیشن واضح کریں تاکہ بروقت ریسکیو ممکن ہو سکے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 15 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، پنجاب پولیس کی بہادر خواتین افسران اور اہلکار بھی سیلاب متاثرین کے انخلا، امدادی سرگرمیوں میں شانہ بشانہ ہیں۔
ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ پنجاب پولیس کے جوانوں نے38 ہزار 130 مردوں، 27 ہزار 418 خواتین اور 25 ہزار 176 بچوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، پنجاب پولیس نے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے 82 ہزار 200 سو سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کو ختم کیا جائے گا۔
زاہد اختر زمان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کو ختم کیا جائے گا اور دریا کے اندر غیر قانونی تعمیرات کے نقصانات کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر مساتو کانڈا نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اے ڈی بی کے صدر نے کہا کہ بینک پاکستان کی معاونت کے لیے فوری اقدامات کرے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اعلان کیا کہ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے 30 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ایمرجنسی ریلیف سرگرمیوں کے لیے فراہم کی جائے گی۔

موضوعات : floodpunjabrainravisatluj
ShareSend

متعلقہ خبریں

In Punjab, the 20kg flour bag has been discontinued; only 10kg flour bags will be sold in the market.
پاکستان

پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، مارکیٹ میں صرف 10 کلو آٹا بیگ فروخت ہوگا

23 اکتوبر , 2026
Plan to transform Punjab’s villages into model villages; pilot project to be launched in 120 villages.
تازہ ترین

پنجاب کے دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کا منصوبہ، 120 دیہات میں پائلٹ منصوبہ شروع ہو گا

20 اکتوبر , 2026
Project involving an investment of Rs 1,995 billion and the creation of 162,000 jobs approved in Punjab.
تازہ ترین

پنجاب میں 1995 ارب روپے کی سرمایہ کاری اور ایک لاکھ 62 ہزار ملازمتوں کا منصوبہ منظور

19 اکتوبر , 2026
وزیراعظم شہباز شریف کا استنبول میں سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اظہارِ افسوس
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کا استنبول میں سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اظہارِ افسوس

16 اکتوبر , 2026
80-year record for heavy rainfall broken in Istanbul; 3 people killed.
تازہ ترین

استنبول میں شدید بارشوں کا 80سالہ ریکارڈ ٹو ٹ گیا ،3افراد ہلاک

16 اکتوبر , 2026
Rain, strong winds and hail expected in most parts of Punjab
تازہ ترین

پنجاب کے بیشتر علاقوں میں بارش، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کا امکان

10 اکتوبر , 2026
اگلی خبر
وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلیے چین روانہ

وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلیے چین روانہ

یہ بھی پڑھیں

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ نکات نہیں، دفتر خارجہ

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ نکات نہیں، دفتر خارجہ

23 اکتوبر , 2026
اسحاق ڈار کی استنبول میں مصری اور جرمن وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسحاق ڈار کی استنبول میں مصری اور جرمن وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

23 اکتوبر , 2026
تشددہوا نہ زیادتی ،غیر ملکی خاتون ڈیانا اپنے بیان سے مکر گئی،ملزموں کو معاف کرنے کا اعلان

تشددہوا نہ زیادتی ،غیر ملکی خاتون ڈیانا اپنے بیان سے مکر گئی،ملزموں کو معاف کرنے کا اعلان

23 اکتوبر , 2026
Scottish Minister Humza Yousaf’s book Under Fire The harrowing tale of a family trapped in Gaza.

اسکاٹس منسٹر حمزہ یوسف کی کتاب انڈر فائر غزہ میں پھنسے خاندان کی اذیت ناک داستان

23 اکتوبر , 2026
نیشنل بینک کے سی ای او کی سیلری 95لاکھ ،3کروڑ کی انشورنس ،گھر کے کرائے کیلئے10لاکھ روپے ماہانہ

نیشنل بینک کے سی ای او کی سیلری 95لاکھ ،3کروڑ کی انشورنس ،گھر کے کرائے کیلئے10لاکھ روپے ماہانہ

23 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔