اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 میں نجی زمین کے لازمی یا زبردستی حصول کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بل میں شامل رائٹ آف وے کی شقوں کا مقصد ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تیز رفتار تنصیب، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بہتری اور 5G کے لیے درکار سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، نہ کہ شہریوں کی نجی املاک پر قبضہ کرنا۔
بیان کے مطابق ٹیلی کام آپریٹرز کسی بھی نجی زمین میں مالک کی اجازت یا قانونی طریقہ کار کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے۔ زمین کے مالکان کو اعتراض اٹھانے، شرائط طے کرنے، معاوضے کا مطالبہ کرنے اور دیگر قانونی حقوق حاصل رہیں گے۔
وزارت نے مزید کہا کہ اگر کسی مالک کی جانب سے بارہا یاد دہانی کے باوجود جواب موصول نہ ہو تو معاملہ متعلقہ سرکاری ادارے کے سپرد کیا جا سکتا ہے، تاہم اس دوران بھی ٹیلی کام کمپنیاں زبردستی زمین پر داخل ہونے کی مجاز نہیں ہوں گی۔
وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد فائبر آپٹک نیٹ ورک اور دیگر ٹیلی کام سہولیات کی توسیع میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور ملک بھر میں بہتر ڈیجیٹل رابطوں کو یقینی بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز کو درپیش مسائل کی ایک بڑی وجہ رائٹ آف وے کے پیچیدہ اور غیر یکساں قواعد و ضوابط ہیں، جن کی وجہ سے ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور نیٹ ورک کی توسیع متاثر ہو رہی ہے۔
وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون سازی کے عمل میں شفافیت، مشاورت اور شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔












