لاہور (پاک ترک نیوز )پنجاب کی جیلوں میں کرپشن، رشوت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کا فیصلہ کر لیا گیا ۔آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے جیل افسران اور اہلکاروں پر قیدیوں کے رشتہ داروں سے غیر ضروری تعلقات رکھنے، کاروباری لین دین کرنے اور تحائف وصول کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے احتساب کا سخت نظام نافذ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
مراسلے کے مطابق جیل افسران یا اہلکاروں کے خلاف کرپشن یا ممنوعہ تعلقات ثابت ہونے پر فوجداری مقدمہ درج کرنے کے ساتھ محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی، جبکہ متعلقہ عملے کی نگرانی کرنے والے افسر کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب کی جیلوں میں رشوت، خوردبرد، سرکاری املاک کی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اینٹی کرپشن کے ہاتھوں جیل افسران کی گرفتاریوں کے بعد تمام ریجنل ڈی آئی جیز اور سپرنٹنڈنٹس جیلز کو کرپٹ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آئی جی جیل خانہ جات نے ریجنل ڈی آئی جیز کو جیلوں، سرکاری اسٹورز، راشن گوداموں، کچن اور کیش بکس کے اچانک معائنے کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل ہر چھ ماہ بعد سرکاری اسٹورز میں موجود سامان کی فزیکل ویریفکیشن کا پابند ہوگا، جبکہ قیدیوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کی مقدار اور معیار میں کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مراسلے کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل روزانہ راشن کی وصولی، وزن اور تقسیم کی نگرانی کرے گا، جبکہ کچن اور وارڈز کی اچانک چیکنگ بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
حساس ڈیوٹیوں پر تعینات اہلکاروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہدایت کے مطابق ایسے عملے کا ہر ماہ تبادلہ کیا جائے گا اور کوئی اہلکار ایک ہی حساس ڈیوٹی پر ایک ماہ سے زیادہ تعینات نہیں رہے گا۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ رشوت، ہراساں کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔ شکایات پر تاخیر کرنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی اور تمام شکایات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا لازم ہوگا۔
جیل ریکارڈ میں ردوبدل، جعلی دستاویزات تیار کرنے اور بدعنوان اہلکاروں کو تحفظ دینے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات نے واضح کیا ہے کہ جیلوں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔












