اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو جمہوریت پر شب خون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت عوام سے رابطہ کرے گی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا کردار ادا کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں ٹیلی فون کیا اور رات کے کھانے پر مدعو کیا، جس پر انہوں نے دعوت قبول کی اور ملاقات کے لیے گئے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق حکومت کا مطالبہ تھا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف تھا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں فریقین کے درمیان معاملات تھے اور جب کوئی ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہو تو بعض معاملات اس کے سپرد کر دیے جاتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ پہلے پی ٹی آئی قیادت سے بات کریں گے۔
جے یو آئی سربراہ نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر، شہرام ترکئی اور اسد قیصر سے رابطہ کیا۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو وہ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی اور جمہوری و پارلیمانی فورمز پر اپنا کردار ادا کرے گی۔












