اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پٹرول پمپ بند ہوں گے یا کھلے رہیں گے؟ ملک بھر میں پٹرول کی فراہمی پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ۔ وزارتِ پٹرولیم سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایک تنظیم نے آج ہڑتال کا اعلان کر دیا، جبکہ دوسری بڑی تنظیم نے فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے کل اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ روزانہ پٹرولیم قیمتیں مقرر کرنے کے مجوزہ نظام پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اگر ہڑتال ہوتی ہے تو لاکھوں شہری، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ دیکھیے یہ رپورٹ۔
پٹرولیم ڈیلرز کی دو بڑی تنظیمیں ایک ہی معاملے پر دو مختلف راستوں پر چل پڑیں۔ آل پاکستان پٹرول پمپس ایسوسی ایشن نے وزارتِ پٹرولیم سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد آج ملک بھر میں ہڑتال اور پٹرول پمپ بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔
تنظیم کے جنرل سیکرٹری نعمان علی بٹ کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق قیمتیں روزانہ نہیں بلکہ ماہانہ بنیادوں پر مقرر کی جانی چاہئیں تاکہ ڈیلرز اور صارفین دونوں غیر یقینی صورتحال سے بچ سکیں۔
دوسری جانب پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے فوری ہڑتال سے گریز کرتے ہوئے کل کراچی میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔تنظیم کے وائس چیئرمین طارق حسن کے مطابق اوگرا نے ڈیلرز سے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے تاکہ روزانہ قیمتوں کے تعین کے معاملے پر مزید مشاورت کی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ ہڑتال کی جائے یا اوگرا کو مزید وقت دیا جائے۔
ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ اگر قیمتیں روزانہ تبدیل ہوئیں تو پٹرول پمپ مالکان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایک ہی دن میں قیمت کم ہونے کی صورت میں پہلے سے موجود ذخیرہ خسارے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ قیمت بڑھنے کی صورت میں صارفین کی جانب سے بھی شدید ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی روس اور بنگلا دیش کے ہم منصب سے ملاقات
ہڑتال کے اعلان کے بعد مختلف شہروں میں شہریوں نے احتیاطاً پٹرول پمپوں کا رخ کرنا شروع کر دیا، جس کے باعث کئی مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر پمپ بند ہوئے تو دفاتر، تعلیمی اداروں، ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں پر براہِ راست اثر پڑے گا۔
ٹرانسپورٹرز نے بھی خبردار کیا ہے کہ طویل ہڑتال کی صورت میں اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
اب سب کی نظریں کل ہونے والے اہم اجلاس پر ہیں، جہاں پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن یہ فیصلہ کرے گی کہ ہڑتال میں شامل ہونا ہے یا اوگرا کو مزید ایک ہفتے کی مہلت دینی ہے۔ اس فیصلے پر نہ صرف ملک بھر میں پٹرول کی فراہمی بلکہ لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی منحصر ہوگی۔












