نیویارک(پاک ترک نیوز )اوپیک پلس کے اکتوبر کے لیے تیل کی پیداوار میں بڑی تبدیلی نہ کرنے کا امکان ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تنظیم کے سات اہم ارکان آن لائن اجلاس میں آئندہ ماہ کی پیداوار پالیسی کا جائزہ لیں گے۔
سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
اوپیک پلس نے 2026 کے دوران کئی ماہ تک پیداوار میں اضافہ کیا۔ ستمبر میں اضافے کے ساتھ 2023 میں کیے گئے روزانہ 16 لاکھ 50 ہزار بیرل کی کٹوتی واپس لینے کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اضافی پیداوار کا بڑا حصہ عالمی مارکیٹ تک پہنچ ہی نہیں سکا۔
ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات متاثر ہوئیں، جبکہ یوکرین جنگ نے روس اور قازقستان کی برآمدات کو نقصان پہنچایا۔
جولائی میں اوپیک کی پیداوار میں 11 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ اضافہ ہوا، لیکن پیداوار اب بھی مقررہ کوٹے سے کم رہی۔
ادھر ایران جنگ نے اوپیک پلس کے لیے عالمی تیل مارکیٹ پر اثرانداز ہونا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث تیل کی قیمتوں پر اب اوپیک پلس کے پیداواری فیصلوں کے بجائے خلیج سے حقیقی سپلائی زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 94 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکا ایران لڑائی اور آئل ٹینکرز پر حملوں نے سپلائی کے خدشات مزید بڑھا دیے۔










