لاہور( پاک ترک نیوز) شدید گرمی۔۔۔ جھلسا دینے والی دھوپ۔۔۔ اور بجلی کے بھاری بل۔۔۔ لیکن ایسے گھر بھی ہیں ، جہاں نہ اے سی، نہ مہنگا کولنگ سسٹم۔۔۔ پھر بھی اندر داخل ہوں تو ٹھنڈی ہوا کا احساس ہوتا ہے۔ آخر صدیوں پرانے مٹی کے گھر آج بھی گرمی کو کیسے شکست دیتے ہیں؟
جدید دور میں جہاں کنکریٹ اور سیمنٹ کے مکانات تیزی سے گرم ہو جاتے ہیں، وہیں مٹی سے بنے گھر قدرتی طور پر ٹھنڈے رہتے ہیں۔ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ سائنس کا ایسا اصول ہے، جسے ہمارے بزرگ صدیوں پہلے عملی طور پر جان چکے تھے۔
ماہرین کے مطابق مٹی حرارت کی کمزور موصل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی گرمی فوری طور پر دیواروں کے اندر منتقل نہیں ہوتی۔ مٹی کی موٹی دیواریں دن بھر گرمی کو اپنے اندر جذب تو کرتی ہیں، مگر اسے آہستہ آہستہ منتقل کرتی ہیں، اس لیے دن کے وقت گھر کا اندرونی حصہ نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔
مٹی میں بے شمار باریک سوراخ موجود ہوتے ہیں، جن میں ہوا قید رہتی ہے۔ یہی ہوا قدرتی انسولیشن کا کام کرتی ہے اور بیرونی گرمی کو اندر آنے سے روکتی ہے۔ اگر دیواروں پر پانی کا چھڑکاؤ کر دیا جائے تو بخارات بننے کے عمل سے درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے اور گھر قدرتی کولر کی طرح ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے۔
روایتی دیہی گھروں میں اونچی چھتیں، کھلے صحن، روشن دان اور آمنے سامنے کھڑکیاں بھی ہوا کی قدرتی آمدورفت کو بہتر بناتی ہیں۔ گرم ہوا اوپر اٹھ کر باہر نکل جاتی ہے جبکہ نسبتاً ٹھنڈی ہوا اندر آتی رہتی ہے، جس سے بغیر بجلی کے بھی ماحول خوشگوار رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں کمی
اس کے برعکس کنکریٹ، سیمنٹ اور لوہے سے بنے جدید مکانات سورج کی حرارت کو تیزی سے جذب کرتے ہیں اور دیر تک اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گرمی ختم ہونے کے بعد بھی ان گھروں کی دیواریں اور چھتیں دیر تک تپتی رہتی ہیں، جس کے باعث اے سی اور پنکھوں پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔
دنیا بھر میں اب ماحول دوست تعمیرات کا رجحان دوبارہ فروغ پا رہا ہے۔ ماہرینِ تعمیرات کے مطابق مٹی، بانس اور دیگر قدرتی تعمیراتی مواد توانائی کی بچت، کم لاگت اور ماحول کے تحفظ کے لیے مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ کئی ممالک میں جدید ڈیزائن کے ساتھ مٹی کے گھروں کو دوبارہ مقبول بنایا جا رہا ہے۔
شاید ہم نے ترقی کی دوڑ میں اپنے بزرگوں کی وہ دانش کہیں پیچھے چھوڑ دی، جو آج سائنس بھی درست قرار دے رہی ہے۔ مٹی کا گھر صرف ایک پرانی یاد نہیں، بلکہ قدرتی ٹھنڈک، کم خرچ زندگی اور ماحول دوست تعمیرات کا ایک بہترین نمونہ بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور بجلی مہنگی ہوتی جا رہی ہے، مٹی کے گھر ایک بار پھر مستقبل کا حل بن کر سامنے آ رہے ہیں۔







