لاہور: (پاک ترک نیوز)کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے پراسرار براعظم، انٹارکٹیکا، اپنی موٹی برف کے نیچے ایک بالکل مختلف دنیا چھپائے بیٹھا ہے۔
اب سائنسدانوں نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے، اور جو کچھ سامنے آیا ہے وہ واقعی حیران کن ہے۔
انٹارکٹیکا کی سطح پر برف کی ایسی تہہ موجود ہے جو بعض مقامات پر تین میل تک گہری ہے۔ یہ برف صدیوں سے نیچے موجود زمین، پہاڑوں اور وادیوں کو مکمل طور پر چھپائے ہوئے تھی۔
ماضی میں سائنسدان اس خطے کا مطالعہ محدود ریڈار سرویز کے ذریعے کرتے تھے، جو صرف چند راستوں تک ہی ممکن تھے، جبکہ وسیع علاقے نامعلوم ہی رہتے تھے۔
لیکن اب جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے تصویر بدل دی ہے۔ سائنسدانوں نے سیٹلائٹ ڈیٹا کو گلیشیئرز کی حرکت کے ساتھ جوڑ کر انٹارکٹیکا کے نیچے چھپی زمین کا ایک نیا اور انتہائی تفصیلی نقشہ تیار کیا ہے۔
اس نقشہ سازی کے دوران برف کے بہاؤ، دباؤ اور رفتار کا گہرا تجزیہ کیا گیا، جس سے اندازہ لگایا گیا کہ نیچے زمین کی ساخت کیسی ہے۔نتائج حیران کن ہیں۔
اس نئی تحقیق میں ہزاروں چھپے ہوئے پہاڑی ٹیلے، گہری وادیاں اور مکمل پہاڑی سلسلے دریافت ہوئے ہیں، جو پرانے نقشوں میں یا تو دھندلے تھے یا بالکل غائب۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ انٹارکٹیکا کے نیچے ایک مکمل جغرافیائی دنیا آباد ہے۔یہ دریافت صرف سائنسی تجسس تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نقشہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ میں انٹارکٹیکا کی برف کیسے ردعمل دے سکتی ہے۔
کیونکہ اگر یہاں کی برف پگھلتی ہے تو اس کا براہ راست اثر دنیا بھر کے سمندروں کی سطح پر پڑے گا۔اگرچہ سائنسدان تسلیم کرتے ہیں کہ اس نقشے میں ابھی کچھ غیر یقینی پہلو موجود ہیں، مگر وہ اسے مستقبل کی تحقیق کے لیے ایک سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپی یہ دنیا، اب عالمی موسمیاتی تبدیلی کو سمجھنے کی کنجی بن چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







