اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ ہی ہمارا بنیادی مقصد ہے، اس کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا ہوگی۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو واپس لا کر بسانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چار سالہ دور میں غیر آئینی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، اب انہیں اپنے ماضی میں بھی جھانکنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بالاکوٹ میں دوسرے روز بھی بارش، بابوسر ٹاپ اور سیاحتی مقامات پر موسم سرما کی پہلی برفباری
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کس سے ہدایات لیتے تھے، یہ سب کو معلوم ہے۔ ان کے بقول، جن سے ہدایات لی جاتی تھیں، وہ اب افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے پاس ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کو مسئلہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ انہوں نے نواز شریف کی رہائی کو کبھی اس طرح سیاسی مسئلہ نہیں بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جیل میں فراہم کیا جانے والا کھانا کھایا اور نواز شریف سے وفاداری نبھاتے ہوئے قید کاٹی، لیکن اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔وزیر دفاع نے مریم نواز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے گیلا دوپٹہ سر پر رکھا۔












