تہران: (پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور اب ایک نئی خبر نے اسرائیل کے ڈرون وار پلان پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
روس کے خطرناک Mi-28 “ہیواک” اٹیک ہیلی کاپٹرز ایران کے بیڑے میں شامل ہونے کی اطلاعات نے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ کوئی عام ہیلی کاپٹر نہیں۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے N025M ماسٹ ماؤنٹڈ ریڈار، جو زمین کے قریب پرواز کرنے والے چھوٹے اور کم نظر آنے والے ڈرونز کو بھی پکڑ لیتا ہے۔
یعنی وہ ڈرون جو پہاڑوں، عمارتوں یا زمین کی اوٹ لے کر حملہ کرتے تھے، اب چھپ نہیں سکیں گے۔تیز رفتار موومنٹ کے ساتھ Mi-28 چند منٹوں میں اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتا ہے، اور جیسے ہی زمینی ریڈار یا آبزرور ٹارگٹ کی نشاندہی کریں، فوراً فضا میں جا کر اسے تباہ کر سکتا ہے۔
یہ ایک موبائل ایئر ڈیفنس لیئر بناتا ہے، جو سٹیٹک میزائل سسٹمز سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔اس کا 30 ایم ایم کینن چھوٹے ڈرونز کو سستے اور فوری طریقے سے گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایک ساتھ کئی اہداف کی صورت میں گائیڈڈ میزائل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
یعنی ایران اب نا صرف ایک ڈرون بلکہ پورے ڈرون حملے کو روکنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔President-S ڈیفنس سسٹم اسے ہیٹ سییکنگ میزائلوں سے بھی بچاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر دشمن کے حملے کے دوران بھی میدان میں موجود رہ سکتا ہے۔
اگر صرف چند Mi-28 تہران کے گرد تعینات کر دیے جائیں تو یہ مسلسل فضائی نگرانی قائم کر سکتے ہیں اور کسی بھی ڈرون آپریشن کو انتہائی مشکل بنا سکتے ہیں۔یہ صرف ایک ہیلی کاپٹر کی آمد نہیں بلکہ ایران کے ایئر ڈیفنس نیٹ ورک کی نئی شکل ہے۔ اب سوال یہ ہے کیا اسرائیل ایران کے خلاف ڈرون حملہ اتنی آسانی سے کر سکے گا یا ہر قدم پر اسے بھاری فوجی قیمت چکانا پڑے گی؟












