لاہور( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا کا تاریخی خلائی جہاز وائجر-1 نومبر 2026 میں ایک ایسا سنگِ میل عبور کرنے جا رہا ہے جو آج تک کوئی بھی انسانی ساختہ شے حاصل نہیں کر سکی۔ تقریباً نصف صدی قبل روانہ ہونے والا یہ خلائی جہاز زمین سے ایک نوری دن کے فاصلے پر پہنچ جائے گا، یعنی اس سے بھیجا گیا ریڈیو سگنل زمین تک پہنچنے میں پورے 24 گھنٹے لے گا۔
وائجر-1 کو 5 ستمبر 1977 کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اس مشن کی متوقع مدت صرف چار سے پانچ سال تھی، تاہم تقریباً 50 سال گزرنے کے باوجود یہ خلائی جہاز آج بھی فعال ہے اور مسلسل زمین پر سائنسی معلومات بھیج رہا ہے۔
ناسا کے مطابق وائجر-1 اس وقت زمین سے تقریباً 26 ارب کلومیٹر دور ہے، جبکہ اس کی رفتار تقریباً 61 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ فی گھنٹہ ہے۔ یہ اس وقت بین النجمی خلا میں برج اوفیوکس کی سمت سفر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق وائجر-1 کا فاصلہ اس قدر زیادہ ہے کہ اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ مثال کے طور پر نظامِ شمسی کے بیرونی بڑے سیارے نیپچون کا سورج سے اوسط فاصلہ تقریباً 4.5 ارب کلومیٹر ہے، جبکہ وائجر-1 اس سے بھی پانچ گنا زیادہ فاصلے پر پہنچ چکا ہے اور ہر لمحہ مزید دور جا رہا ہے۔
اگرچہ وائجر-1 کو حالیہ برسوں میں کئی تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 2023 میں کمپیوٹر کی خرابی کے باعث بے معنی ڈیٹا بھیجنے کا مسئلہ بھی شامل تھا، لیکن ناسا کے انجینئرز نے مختلف تکنیکی طریقوں سے اس سے دوبارہ رابطہ بحال کر لیا۔
یہ خلائی جہاز آج بھی مقناطیسی میدان، چارج شدہ ذرات اور پلازما ویوز سے متعلق قیمتی معلومات زمین پر بھیج رہا ہے، جو سائنس دانوں کو نظامِ شمسی اور بین النجمی خلا کے بارے میں نئی معلومات فراہم کر رہی ہیں۔
وائجر پروگرام کا آغاز ایک ایسے نایاب فلکیاتی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا تھا، جو تقریباً 176 سال بعد ایک مرتبہ آتا ہے۔ اس دوران مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایسی ترتیب میں تھے کہ خلائی جہاز ان کی کششِ ثقل استعمال کرتے ہوئے کم ایندھن میں اگلے سیارے تک پہنچ سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور جاپان کے درمیان جدید بحری دفاعی ٹیکنالوجی کا معاہدہ
اس پروگرام کے تحت دو خلائی جہاز، وائجر-1 اور وائجر-2 روانہ کیے گئے۔ اگرچہ وائجر-2 پہلے لانچ ہوا، تاہم وائجر-1 نے مختلف راستہ اختیار کیا اور پہلے مشتری تک پہنچ گیا۔
1979 میں مشتری کے قریب سے گزرتے ہوئے وائجر-1 نے اس کے چاند آئیو پر فعال آتش فشاں دریافت کیے، جو زمین کے علاوہ کسی اور دنیا پر پہلی بار آتش فشانی سرگرمی کا مشاہدہ تھا۔
اسی مشن کے دوران اس نے مشتری کے دیگر چاندوں یوروپا، گینی میڈ اور کالسٹو کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کیں۔
1980 میں وائجر-1 زحل کے قریب پہنچا، جہاں اس نے کئی نئے چاند دریافت کیے، زحل کے حلقوں کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور اس کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کے گھنے نائٹروجن سے بھرپور ماحول کی پہلی واضح تصاویر اور معلومات زمین پر بھیجیں۔
بین النجمی خلا میں داخل ہونے والا پہلا خلائی جہاز
2004 میں اس نے نظامِ شمسی کے اس حصے کو عبور کیا جہاں شمسی ہوائیں سست پڑ جاتی ہیں، جبکہ 25 اگست 2012 کو وائجر-1 نے ہیلیوپاز عبور کرتے ہوئے بین النجمی خلا میں داخل ہونے والا دنیا کا پہلا انسانی ساختہ خلائی جہاز بننے کا اعزاز حاصل کیا۔اس کامیابی نے سائنس دانوں کو پہلی مرتبہ ستاروں کے درمیان موجود خلا کے ماحول کا براہِ راست مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔






