
از : سہیل شہریار
آج سے 57برس قبل امریکہ کا اپولو 11خلائی مشن چاند پر اترا تو انسان نے پہلی بار چاند پر قدم رکھا۔جس کے بعد تین سالوں میں چھ امریکی مشنز خلا بازوں کو مختلف تحقیقی امور کی انجام دہی کے لئے چاند پر لے جاتے رہے ۔اب امریکہ کا خلائی ادارہ ناسا اس سلسلے کو نہ صرف دوبارہ شروع کرنے کارہا ہے بلکہ چاند پر مستقل بستیاں آباد کرنے کے خطیر لاگتی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی منصوبہ بندی بھی کر چکا ہے۔
اسی سلسلے میں ناسان کا آرٹیمس۔2مشن چند دنوں میں ایک خاتون سمیت چار خلابازوں کو لیکر چاند تک چلا گیا ۔جو چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے مختلف تحقیقی امور اور تجربات سرانجام دیں گے۔ تاہم یہ مشن چاند پر اترے بغیرہی لوٹ آئے گا۔ جس کے بعد چاند پر اترنے کے لئے آرٹیمس۔3مشن روانہ کیا جائے گا۔
آج سے نصف صدی پہلے 60 کی دہائی اور70 کی دہائی کے ابتدائی برسوںکے دوران امریکہ کے اپولو اور سوویت یونین کے لونا مشنز چاند تک پہلے رسائی اور خلائی غلبہ کی دوڑ میں شامل تھے۔ مگر اس بار امریکہ کو چین سے مقابلہ درپیش ہے۔چین اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے۔ وہخلا میں اپنا لگ خلائی اسٹیشن تیانگونگ خلائی اسٹیشن 2022میں مکمل کر چکا ہےجہاں خلابازوں کی آمد رفت اور تحقیقی عمل تیزی سے جاری ہے۔چین نے ایک سے زیادہ بار کامیابی کے ساتھ روبوٹ اور روور چاند پر اتارے ہیں اور کہا ہے کہ وہ 2030 تک انسانی مشن چاندپر اتارے گا۔
دوسری جانبناسا کے آرٹیمس پروگرام بھی برسوں سے کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا اصل ہدف مریخ تک رسائی ہے ۔جس کے لئے چاند پر مستقل قیام کے کے لئے انسانی بستیاں آباد کی جائیں گی۔ اس پروگرام میں ہزاروں لوگ شامل ہیں۔ اور ناسا کی جاری کردہ معلومات کے مطابق اسکی لاگت کا تخمینہ93 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔جن میں 20ارب ڈالر سے زائد رقم چاندپر ابتدائی آمد ورفت پر خرچ ہونگے۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کی چاند پر جانے کی جستجواور وہاں قیام کی منصوبہ سازی صرف تحقیق کے لئے نہیں ہے بلکہ ان نایاب عناصر کے حصول کے لئے ہے جو زمین کی طرح چاند پر بھی موجود ہیں۔امریکہ اور چین دونوں ہی ان علاقوں تک رسائی چاہتے ہیں جہاں سب سے زیادہ وسائل ہیں۔ جس کا مطلب ہے بہترین قمری جائداد کو محفوظ بنانا۔
اقوام متحدہ کے 1967 کے بیرونی خلائی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ملک چاند کا مالک نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب بات چاند پر پائی جانے والی قیمتی معدنیات کی ہو تو اس کا حل بہت آسان ہے۔ کہ آپ چاند پر ملکیت نہیں لے سکتے مگر اپنے استعمال کے لئے اسکے مخصوص خطوں پر اپنا تسلط ضرور قائم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اقوام متحدہ کے معاہدے میں اس کی گنجائش موجود ہے۔
مزید براں تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ چاند کے مخصوص حصوں میں پانی موجود ہے خاص طور پر کئی جگہ زیر زمین پانی کے ذخیرے پائے جاتے ہیں۔ اور یہ چاند پرلمبے عرصے تک انسانی قیام کے لئے سب سے اہم ہے۔ اور اسی کے حوالے سے چین نے دو سال قبل 2024میں اپنا خلائی روورچاند کے برفانی علاقے میں اتارا تھا ۔












