
از: سہیل شہریار
غزہ میں جنگ کے خاتمے اور تمام اسیروں کی واپسی کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی ذاتی دلچسپی مصر میں پیر کے روز سے شروع مذاکرات کے نئے دور کو پچھلی ناکام کوششوں سے مختلف بنا سکتی ہے۔کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر انتہا پسند یہودی سیاستدانوں کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے ٹرمپ نے نیتن یاہو کو اپنے 20نکاتی امن منصوبے پر من وعن عمل درآمد کا پابند کر دیا ہے۔ مزاکرات میں شرکت کے لئے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے دامادجیرڈکشنرمصر پہنچ چکے ہیں۔ساتھ ہی خلیل الحیہ کی قیادت میں حماس کی ٹیم بھی مصر میں موجود ہے۔
شرم الشیخ میں بلواسطہ مزاکرات کا پہلا دور مکمل ہو چکا ہے ۔جس میں پہلے مرحلے پر فوری عملدرآمد پر اتفاق کے بعد حماس نے زندہ اور مردہ یرغمالیوں کی فہرست ثالثوں کے ذریعے اسرائیل کو فراہم کر دی ہے۔جبکہ حماس کےذرائع نے عرب میڈیا کو بتایا ہےکہ حماس نے اسرائیلیوں کی لاشیں جمع کرنا شروع کر دی ہیں اور مصر کے ذریعے مشن کو مکمل کرنے کے لیے مخصوص علاقوں میں فضائی بمباری روکنے کی درخواست کی ہے۔ زندہ یرغمالیوں کی حوالگی ایک مرحلے میں ہوگی۔ االبتہ امریکی لچک کے تناظر میں لاشوں کی حوالگی میں کچھ وقت لگے گا۔
https://www.youtube.com/watch?v=yYEZaDEHllA
حماس کو قطر کے ذریعے امریکی ضمانتیں ملی ہیں جس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلیوں کے مستقل انخلاء کی شرط رکھی گئی ہے۔ حماس نے بین الاقوامی نگرانی میں فلسطینی- مصری کمیٹی کو ہتھیار دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور امریکہ کو اس سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل اتوار کو ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ان کا طےکردہ معاہدہ "اسرائیل کے لیے بھی ایک عظیم سمجھوتا” ہے۔
انھوں نے حماس کے اس ردِ عمل کا بھی خیرمقدم کیا جس میں تنظیم نے ان کے 20 نکاتی منصوبے کےبیشتر حصوں سے اتفاق کیا، جن میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا اور اسرائیلییرغمالی افراد کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔
پیر کے روز امریکی چینلکو دیے گئے انٹرویو میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیلی وزیرِ اعظم بم باری روکنے اور امریکا کے وسیع تر وژن سے متفق ہیں تو امریکی صدر کا کہنا تھا "ہاں”۔ ٹرمپ کے مطابق انھیں توقع ہے کہ جلد معلوم ہو جائے گا کہ آیا حماس امن کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
ادھراسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قوم سے اپنے خطاب میںکہا ہے کہ اسرائیل غزہ کے اندر فوج تعینات کرکے تزویراتی طور پر اہم علاقوں کا کنٹرول جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس کی تخفیف اسلحہ اور پٹی کو غیر مسلح کرنے کا عمل یا تو سفارتی طور پر یا ضروری ہوا تو فوجی طور پر ہوگا اور یہ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق ہوگا۔












