واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین کو دی جانے والی مبینہ اجتماعی پھانسیوں کی منسوخی ان کے اس فیصلے پر اثرانداز ہوئی جس کے تحت انہوں نے ایران پر فوجی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا عرب یا اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر حملے سے روکنے میں کوئی کردار ادا کیا؟
اس پر ٹرمپ نے کہا:”کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود فیصلہ کیا۔ ایران میں800 سے زائد افراد کو پھانسی دی جانی تھی، لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔ پھانسیاں منسوخ کر دی گئیں، اور اس کا میرے فیصلے پر بڑا اثر پڑا۔”
یہ پہلا موقع ہے کہ صدر ٹرمپ نے بالواسطہ طور پر تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات میں کمی ان کے فوجی کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کی وجہ بنی۔
اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 800 سے زائد طے شدہ پھانسیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، جو ایک قابلِ احترام اقدام ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں 28 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے ابتدا میں خراب معاشی حالات کے خلاف تھے، جو بعد ازاں براہ راست مذہبی نظام کے خلاف تحریک میں تبدیل ہو گئے۔
ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے سخت ریاستی کارروائی کی گئی جس میں ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے تھے کہ اگر ایران نے مظاہرین کو قتل کیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔ تاہم بدھ کے روز انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مظاہرین کی ہلاکتیں روکنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے مطابقطے شدہ 800 پھانسیاں بھی منسوخ کر دی گئیں، اگرچہ ایران نے سرکاری طور پر ایسی کسی فہرست کا اعلان نہیں کیا۔
ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا اب بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ آپشن بدستور موجود ہے، جبکہ سرکاری نشریاتی ادارے "کان” کے مطابق امریکی فیصلہ سفارتی کوششوں کے نتائج سے مشروط ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان دو دن میں دوسری مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکا سے ممکنہ حملے میں تاخیر کی درخواست کی تاکہ اسرائیل ایرانی ردعمل کے لیے تیاری کر سکے۔دوسری جانب قطر، سعودی عرب، عمان اور مصر سمیت کئی عرب ممالک نے بھی امریکا کو ایران پر حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے، خبردار کرتے ہوئے کہ ایسی کارروائی پورے خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔












