واشنگٹن ( پاک ترک نیوز ) ٹرمپ انتظامیہ نے چینی ڈیٹا سینٹر ٹیکنالوجی کی امریکی درآمد پر سخت پابندی لگانے کی تیاریاں شروع کردیں۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس سیکٹر کو جاسوسی اور تخریب کاری سے بچانے کے لیے چینی آپٹیکل ٹرانسیورز پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن رواں سال کے اختتام تک پابندیوں کا مسودہ نافذ کر دے گا۔
امریکی ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے امریکی نیٹ ورکس میں حساس چینی ہارڈویئر کی تنصیب کو روکا جا رہا ہے،
چینی سفارتخانے نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی الزامات بے بنیاد ہیں، مفادات کو نقصان پہنچانے والے ہر اقدام کا بھرپور جواب دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے مثبت پیش رفت ہوئی ہے ،امریکی وزیر خارجہ
امریکی پابندی سے عالمی مارکیٹ کے 27 فیصد پر قابض چینی کمپنی ‘ژونگجی انولائٹ’ سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔امریکی کلاؤڈ کمپنیوں اور ایمیزون کو متبادل کی تلاش میں شدید لاجسٹک اور مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹکے مطباق مقامی امریکی کمپنیوں کے پاس فوری طور پر اربوں ڈالر کی چینی سپلائی کا متبادل فراہم کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔












