واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور امریکا کو امید ہے کہ معاہدہ بہت جلد طے پا جائے گا۔
انہوں نے محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ہمیں امید ہے کہ بہت جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات کی تصدیق کے بعد ایک نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ امریکی حکام اس وقت بھی ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انھیں امید ہے کہ آج یا کل معاہدہ طے پا سکتا ہے جس کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو جائے گی۔
اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ مجوزہ انتظام کے تحت ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بجائے آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
تاہم ایران کی جانب سے امریکہ کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ تہران اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کرچکا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور ممکنہ معاہدے کے مسودے مختلف فریقوں کے درمیان گردش کر رہے ہیں۔
قطر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران۔امریکا معاہدہ ابھی نہیں ہوا، آئندہ گھنٹوں یا دنوں میں حالات بدل سکتے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق عمان کی ثالثی میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق قطر اور عمان دونوں ممالک کے درمیان تجاویز اور مسودوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔
اطلاعات ہیں کہ ایران آنے والے اور جانے والے بحری راستوں کے انتظام سے متعلق مخصوص اختیارات کا خواہاں ہے، جبکہ امریکا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہے اور کسی ملک کو تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنے کا اختیار نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں کمی، چاندی کی قیمت میں اضافہ
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں نے ممکنہ معاہدے کو تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امید سے جوڑا، جس کے باعث برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودوں میں کئی فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی بحال ہو جاتی ہے تو نہ صرف عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر سفارتی مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔












