
از: سہیل شہریار
پاک فضائیہ نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے بغیر پائلٹ گاڑیوں (ڈرونز)کےبیڑے کو جنوبی ایشیا کے سب سے زیادہ متنوع اثاثے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اور اب وہ اسے مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لئےمحض جاسوسی کے کردار سے آگے ایک فعال اور مصنوعی ذہانتسے چلنے والی جنگی قوت میں تبدیل کر رہی ہے۔اس کا مقصد 2030 تکپائلٹ اور بغیر پائلٹ کے پلیٹ فارمز میں تال میل (ایم یو ایم۔ٹی) کو اہداف کے حصول کی اعلیٰ ترین سطح تک لے جانا ہے۔
پاک فضائیہ نے 2007سے2026کے دوران اپنے بغیر پائلٹ گاڑیوں (ڈرونز)کے بیڑے کو چینی، ترک اور مقامی طور پر تیار کردہ پلیٹ فارمز پر پھیلا یا ہے۔ اور اس بیڑے نے لگ بھگ دو دہائیوں میں جاسوسی کے ابتدائی کردار سے مسلح نگرانی اوراہداف کو نشانہ بنانے کی جنگی صلاحیت سے اب مصنوعی ذہانت سے وابستہ ابھرتے ہوئے خود مختار افعال تک کا سفر طے کیا ہے۔ جبکہ رواں دہائی کے آخر تک اس کا پورٹ فولیو ایم یو ایم۔ ٹی کے جدید ترین نظام سے لیس ہو جائے گا۔
یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ پاک فضائیہ کی یہ کامیابی کسی متحد حکمت عملی کی پیداوار نہیں بلکہ یہ مختلف وینڈرز سے سامان کی دستیابی کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ یورپی پلیٹ فارمز نے ابتدائی آپریشنل پریکٹس قائم کی۔ پھر چین کی مدد سے بنائے گئے مسلح ڈرونز نے نئے امکانات کئے۔تونیسکام نے چین اور ترکیہ کی مدد سےروایتی فضائی طاقت کے عدم توازن کو دور کرنے کے لیے گہرائی تک جا کر حملوںکی صلاحیت کا حصول ممکن بنایا ہے۔ آج پی اے ایف مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز تیار کر رہا ہے۔ شاہپر-IIIوہ ڈرون ہے جو جے10 ۔ سی اورجے ایف۔ 17 بلاک III جیسے طیاروں کے ساتھ ونگ مین کا کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نقطہ نظر او او ڈی اے یعنی دیکھو۔ سوچو۔ فیصلہ کرو اور عمل کرو۔ کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانتکو مربوط کرنے پر مرکوز ہے۔
پاک فضائیہ کا مستقبل کا بغیر پائلٹ گاڑیوں کا بیڑہ دشمن کے فضائی دفاعی دباو (ایس ای اے ڈی) کو زائل کرتے ہوئے خطرناک مشن کو انجام دینے کے لیے کم لاگت، قابل توسیعاورقابل توجہ بغیر پائلٹ کے آئی اے سے لیس ڈرونزپر زور دیتا ہے۔ اوراسکے لئے جی آئی ڈی ایس کے تیار کردہ رینجر اور نیسکام کے شاہپر۔III جیسے ذہین، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز بنائے جارہے ہیں۔
تزویراتی شراکت داری اور مقامی پیداوارکے تنوع کو برقرار رکھنے کے لئے ترکیہ کے بیکار انچی جیسے اعلیٰ درجے کے پلیٹ فارمز کو درآمد کرتے ہوئےپاکستان ائر فورس نے ٹیکنالوجی کی تعمیر، ترمیم اور مقامیت کی طرف رخ کیا ہے۔جس میں ترکیہ (اے این کے اے) کے ساتھ منصوبے اور نیسکام اور گڈزکی طرف سے بغیر پائلٹ گاڑیوں کی مقامی پیداوار شامل ہے۔ان میںشاہپر۔ III سب سے نمایاں ہےجو 16 گھنٹےتک پرواز اور 1,000 کلومیٹر تک کی رینج کا حامل ہے۔
اسی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی بہترین صلاحیت کا حصول یقینی بنانے کے لئے پاک فضائیہ اپنیبغیر پائلٹ گاڑیوں کی انوینٹری میں جدید ترین جارحانہ صلاحیتوں کو شامل کر رہا ہے۔یہ جدید ڈرونز جاسوسی اور معلومات جمع کرنے سےاہداف کو نشانہ بنانےپر مبنی کردار کی طرف بڑھ گئےہیں۔ جبکہ مستقبل کے ڈرونز کومصنوعی ذہانت کی مدد سے دشمن کے علاقے میں گہرائی تک جا کر کارروائیوں کے لیے
ہوا سے زمین پر ہتھیار لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہیں پر بس نہیں پاک فضائیہ ائر بیس اور رن وے کی ضرورت سے آزادایسی مسلح بغیرپائلٹ گاڑیوں کی تیاری پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے جنہیں چھوٹے، منتشر مقامات سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔











