بدھ , 4 نومبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

ایرانی کرنسی کی بدترین گراوٹ ،کیا اسے خریدنا چاہیئے؟

6 مہینے پہلے
A A
The worst fall in the Iranian currency, should it be bought
Share on Facebookwhatsapp

تہران ( پاک ترک نیوز) امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے باعث ایرانی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہو گئی جس کے بعد بلیک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے بدلے تقریباً 18 لاکھ ریال تک کی شرح دیکھی جا رہی ہے، جو ملکی تاریخ کی کم ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔جس کے بعد ایران میں معاشی بے چینی اور عوامی ردعمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
کرنسی ٹریک کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق صرف دو ماہ قبل، جب خطے میں کشیدگی کا آغاز ہوا تھا، ایک ڈالر تقریباً 17 لاکھ ریال کے برابر تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں ریال کی قدر میں تیزی سے کمی جاری ہے، جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔


معاشی ماہرین کے مطابق امریکا جانب سے عائد سخت پابندیوں، ڈالر کی قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ، جس کے نتیجے میں مقامی کرنسی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ایران میں کاروباری سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں سیاسی غیر یقینی صورتحال اور خطے میں کشیدگی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب حیران کن طور پر عوام کی ایک بڑی تعداد اس گرتی ہوئی کرنسی کو خریدنے میں مصروف ہے۔ شہریوں کا خیال ہے کہ ریال اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور مستقبل میں اس کی قدر میں بہتری آ سکتی ہے، جس سے انہیں منافع حاصل ہوگا۔
تاہم ماہرین اس رجحان کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کمزور ہوتی کرنسی کی خریداری دراصل ایک قسم کی سٹے بازی ہے، جس میں فائدے سے زیادہ نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر معاشی حالات مزید خراب ہوتے ہیں یا پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو ریال کی قدر میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی کرنسی کی مضبوطی کا انحصار ملک کی معاشی پالیسیوں، سیاسی استحکام اور عالمی تعلقات پر ہوتا ہے، اور موجودہ حالات میں ایران کو ان تینوں محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔


بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے، پابندیوں میں نرمی ہوتی ہے اور معیشت میں استحکام آتا ہے تو ریال کی قدر میں بہتری ممکن ہے، تاہم فی الحال ایسا کوئی واضح اشارہ موجود نہیں۔یوں موجودہ صورتحال میں ایرانی ریال کی خریداری ایک پرخطر قدم تصور کی جا رہی ہے، جس میں ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ نقصان کے امکانات موجود ہیں۔
ماہرین نے عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر یقینی معاشی حالات میں جذباتی فیصلوں کے بجائے محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

موضوعات : #currencyexchangeiran
ShareSend

متعلقہ خبریں

Diplomatic efforts for an Iran-US agreement intensify; Qatari mediators arrive in Tehran.
تازہ ترین

ایران ،امریکا معاہدے کیلئے سفارتی سرگرمیاں تیز ،قطری ثالث تہران پہنچ گئے

3 نومبر , 2026
Iran-US talks Mojtaba Khamenei grants special powers to the government
تازہ ترین

ایران ،امریکا مذاکرات، مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو خصوصی اختیارات دے دیئے

3 نومبر , 2026
Iran’s condition for an agreement with the US Acceptance of 7 points
تازہ ترین

ایران کی امریکا سے معاہدے کے لیے7 نکات تسلیم کرنے کی شرط

3 نومبر , 2026
US attacks Iran again; explosions reported near Qeshm Island and the Strait of Hormuz.
تازہ ترین

امریکا کا پھر ایران پر حملہ،جزیرہ قشم اورآبنائے ہرمز کے اطراف میں دھماکے

3 نومبر , 2026
Two oil tankers struck naval mines in the Strait of Hormuz.
تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے

2 نومبر , 2026
Iran confirms indirect diplomatic contacts with the US via Qatar
تازہ ترین

ایران کی امریکا کے ساتھ قطر کے ذریعے بالواسطہ سفارتی رابطوں کی تصدیق

2 نومبر , 2026
اگلی خبر
MoUs signed between Pakistani and Chinese institutions

پاکستان اور چین کے اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

یہ بھی پڑھیں

Are two of Russia's major warships being retired

روس کے2بڑے جنگی بحری جہازوں کی چھٹی؟

4 نومبر , 2026
President Trump signals an end to financial aid to Israel by the end of this year.

صدر ٹرمپ کا رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کی مالی امداد بند کرنے کا عندیہ

4 نومبر , 2026
JD Vance opposes a prolonged war in the Middle East.

مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ کے مخالف ہیں ،جے ڈی وینس

4 نومبر , 2026
A flying blanket on the battlefield

جنگ کے میدان میں اڑتا ہوا کمبل

4 نومبر , 2026
Reduction in prices of petroleum products

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

4 نومبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔