کراکس: (پاک ترک نیوز) رپورٹ کے مطابق،وینزویلا کے پاس اس وقت تقریباً 303 بلین بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن پر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اب قابو پا چکا ہے۔
تیل کی موجودہ قیمت تقریباً 57 ڈالر فی بیرل ہے، جس کے حساب سے وینزویلا کے کل ذخائر کی مالیت 17.3 ٹریلین ڈالر بنتی ہے۔ اگر امریکہ اس تیل کو مارکیٹ کی قیمت کے آدھے نرخ پر بیچے، تب بھی اس کی مالیت تقریباً 8.7 ٹریلین ڈالر ہوگی۔
دوسرے الفاظ میں، صرف 12 گھنٹوں میں امریکہ کے قبضے میں آنے والے تیل کے ذخائر کی مالیت دنیا کے تمام ممالک کی مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ ہے، ماسوائے چین کے۔یہ رقم جاپان کی جی ڈی پی سے چار گنا زیادہ ہے، جو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے۔
زیادہ تر لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ دنیا نے ابھی کتنی بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔ آنے والے چند دن اقتصادی طور پر نہایت اہم ہوں گے۔ورلڈ ویزیولائز کے مطابق،امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن اور بین الاقوامی توانائی کے ادارے کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر سعودی عرب کے پاس 267 بلین بیرل، ایران کے پاس 209 بلین بیرل، کینیڈا کے پاس 163 بلین بیرل، عراق کے پاس 145 بلین بیرل، متحدہ عرب امارات کے پاس 113 بلین بیرل، کویت کے پاس 102 بلین بیرل، روس کے پاس 80 بلین بیرل، امریکہ کے پاس 74 بلین بیرل، اور لیبیا کے پاس 48 بلین بیرل موجود ہیں۔
وینزویلا کے حیرت انگیز ذخائر، اور امریکہ کے اس پر اثر و رسوخ، نہ صرف عالمی مارکیٹ بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کو بھی بدل سکتے ہیں۔ آنے والے دن عالمی معیشت کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے، اور یہ واضح ہے کہ توانائی کے یہ خزانے اب محض وسائل نہیں، بلکہ عالمی سیاست اور طاقت کا نیا معیار بن چکے ہیں۔












