واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) دنیا کے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار ہونے والے ایف 35 سے متعلق ایسی خبر سامنے آگئی جس نے امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش بڑھا دی۔۔۔آسٹریلوی فضائیہ کے ایف 35 اے طیارے کے انتہائی اہم حصے آسٹریلیا سے امریکا منتقل کیے جا رہے تھے۔۔۔لیکن راستے میں سامان اچانک ہانگ کانگ پہنچ گیا۔۔۔رپورٹ کے مطابق سامان میں ایف 35 کا کاک پٹ شیشہ اور ہتھیاروں کے خانے کا دروازہ شامل تھا۔۔۔یہ وہی حصے ہیں جن پر ریڈار لہروں کو جذب کرنے والی خصوصی تہہ موجود ہوتی ہے۔۔۔یعنی ایف 35 کی وہ ٹیکنالوجی جو اسے دشمن کے ریڈار سے چھپانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔
اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ حساس پرزے چینی ماہرین کے ہاتھ لگ گئے تو ان کا تفصیلی جائزہ ایف 35 کی خفیہ خصوصیات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔۔۔اور یہی بات امریکا کے لیے سب سے بڑی تشویش بن گئی ہے۔۔۔ایف 35 کی اصل طاقت صرف اس کی رفتار یا ہتھیار نہیں۔۔۔بلکہ اس کی ریڈار سے چھپنے کی صلاحیت ہے۔۔۔اگر اس ٹیکنالوجی کے اہم حصوں کو سمجھ لیا گیا تو مستقبل کی جنگ میں ایف 35 کو تلاش کرنا اور اس کا سراغ لگانا آسان ہوسکتا ہے۔۔۔تاہم امریکی ایف 35 پروگرام دفتر نے واضح کیا ہے کہ وہ واقعے سے آگاہ ہے اور امریکی حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر پرزے واپس حاصل کرنے اور واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔اہم بات یہ بھی ہے کہ ایف 35 کے انتہائی حساس برقی اور جنگی نظام ان پرزوں کے ساتھ موجود نہیں تھے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے جے ایف17تھنڈر کی دنیا میں دھوم
لیکن سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔۔۔آسٹریلیا سے امریکا جانے والے حساس جنگی طیارے کے پرزے ہانگ کانگ کیسے پہنچے؟چین پہلے ہی جے 20 اور جے 35 جیسے پانچویں نسل کے جنگی طیارے تیار کر رہا ہے۔۔۔اور اب ایف 35 کے حساس حصوں تک ممکنہ رسائی نے عالمی دفاعی منظرنامے میں ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے۔۔۔کیا ایف 35 کی سب سے بڑی طاقت۔۔۔ اس کی خفیہ ٹیکنالوجی۔۔۔ اب اتنی خفیہ نہیں رہی؟












