اسلام آباد ( پاک ترک نیوز)پاکستان نے مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی کوشش سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، حرمین شریفین کا تحفظ اور تقدس ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر لحاظ سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی ہے اور حوثیوں کو اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے پر کاربند ہے تاہم اس کی عملی تفصیلات ظاہر نہیں کی جاسکتیں۔ خطے میں امن و استحکام پاکستان، ایران اور تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی، جبکہ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔بھارت سے متعلق ترجمان نے بتایا کہ 15 ستمبر کو پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا، جبکہ نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ میں احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ پاکستان نے واقعے کو بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزارتِ داخلہ کے نام پر ٹنٹڈ شیشوں کے جعلی اجازت نامے جاری ہونے کا انکشاف
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی میزبانی کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے اور اسلاموفوبیا، دہشتگردی، کشمیر اور فلسطین سمیت اہم معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔کشمیر کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستانی سکھ یاتریوں سے متعلق مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے رواں برس ویساکھی کے لیے 2800 سے زائد ویزے جاری کیے، جبکہ کرتارپور راہداری بھارت نے بند کر رکھی ہے، پاکستان سکھ یاتریوں کے استقبال کے لیے تیار ہے۔افغان طلبہ سے متعلق ترجمان نے واضح کیا کہ مستند ویزا رکھنے والے اور باقاعدہ تعلیمی پروگرام میں زیر تعلیم افغان طلبہ پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کرسکتے ہیں، تاہم غیر قانونی طور پر مقیم یا غیر مؤثر ویزا رکھنے والے افراد کے لیے صورتحال مختلف ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔












