
از: سہیل شہریار
پچھلے سالوں کی طرح گذشتہ برس 2025 میں بھی پیسہ کمانے اور اپنے بہتر زندگی کے خوابوں کو سچ کرنے کے لئے انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ کر ہزاروں پاکستانی نوجوان گھروں سے نکلے مگران میں سے بیشتر وسطی بحیرہ روم کے راستے یورپ تک پہنچنے سے پہلے ہی یا تو واپس دھکیل دیے گئے یا سمندر کی بے رحم لہروں میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔
سال بھر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لیبیا اور مراکش سے یورپ کی طرف جانے والا یہ راستہ آج بھی نقل مکانی کرنے والوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شامل ہے۔ اور اس خطرے کا سب سے زیادہ شکار افریقی اور پاکستانی شہری بن رہے ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی سالانہ رپورٹ بتاتی ہے کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 26 ہزار 940 پناہ گزینوں کو وسطی بحیرہ روم میں روک کر لیبیا واپس بھیجا گیا۔ ان اعدادوشمار سے ترک وطن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی ہوتی ہے۔ کیونکہ سال 2023 میں یہ تعداد 17 ہزار 190 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 21 ہزار 762 ہو گئی اور 2025 میں اس نےنیا ریکارڈ بنایا ہے۔ سال 2025 میں پکڑے جانے والوں میں 23 ہزار 380 مرد، 2 ہزار 379 خواتین اور 973 بچے شامل تھے۔ خواتین اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ سفر اب صرف نوجوان مردوں کا نہیں رہا بلکہ پورے خاندان اس خطرے کو مول لینے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
اگرچہ زیادہ تر رپورٹس میں قومیتوں کی تفصیل درج نہیں ہوتی مگرآئی او ایم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی شہری نقل مکانی کے لئے جان جوکھوں میں ڈالنے والے اس سفر پرنکلنے والوں میں سب سے نمایاںرہے ہیں۔2025 میں واپس بھیجے گئے افراد میں پانچ سے چھ ہزار پاکستانی شہری شامل تھے۔ اس سے پہلے 2023 میں یہ تعداد تقریباً ساڑھے تین ہزارسے چار ہزار اور 2024 میں چار ہزار سے زائدتھی۔ یوں صرف تین برسوں میں کم از کم 12 سے 15 ہزار پاکستانی براہِ راست اس خطرناک راستے سے واپس موڑےجا چکے ہیں۔
اسپینش این جی او واکنگ بارڈرز کے مطابق2024 ء میں بذریعہ کشتی اسپین پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد 10,457 تھی۔ یعنی یومیہ 30 افراد اسپین پہنچنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سال 2024 اور 2025 میں اگرچہ بڑے سانحات کم ہوئے مگر چھوٹے حادثات میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ رکا نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 962 اموات اور ایک ہزار 536 افراد لاپتہ ہوئے، جبکہ 2024 میں 665 اموات اور ایک ہزار 34 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے بہت سوں کی شناخت آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔
آئی او ایم بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ لیبیا کو پناہ گزینوں کے لیے محفوظ ملک نہیں سمجھتی۔ اس کے باوجود ہزاروں افراد کو سمندر سے واپس وہیں بھیجا جا رہا ہے جہاں حراستی مراکز میں بدسلوکی کی شکایات عام ہیں۔ یوں سمندر سے بچ جانے والے بہت سے لوگ زمین پر ایک اور آزمائش کا سامنا کرتے ہیں۔









