لاہور( پاک ترک نیوز) کائنات میں زندگی کی تلاش۔۔۔ دور دراز سیاروں پر ممکنہ آثار ہیں مگر تصدیق میں کئی سال لگ سکتے ہیں،ماہرینِ فلکیات دور دراز سیاروں کے ماحول میں مخصوص مالیکیولز تلاش کرنے کے لیے دوربینوں کا استعمال کر سکتے ہیں، اسی طرح وہ نیبولا (Nebula) یعنی خلا میں موجود گیس اور دھول کے بادلوں میں، یا کہکشاؤں میں بھی کیمیکل تلاش کرتے ہیں جو ہماری ملکی وے کہکشاں سے بھی بہت دور ہو سکتے ہیں۔
اب تک ماہرین نے تقریباً 100 سال میں خلا میں موجود 350 سے زیادہ مالیکیولز دریافت کیے ہیں۔ پہلا ایسا مالیکیول 1937 میں رپورٹ ہوا تھا۔ ہر سال خلا میں نئے مالیکیولز کی دریافت ہوتی رہتی ہے، جو چند سے لے کر بیس کے قریب تک ہو سکتی ہے۔ ان میں سے کئی مالیکیولز ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کے بنیادی اجزاء کی تشکیل میں مدد دے سکتے ہیں، یعنی یہ کائنات میں زندگی کے آغاز کے بارے میں اہم اشارے دے سکتے ہیں۔
خلا میں مالیکیولز کو “دیکھنا” کیسے ممکن ہے؟ ماہرین فلکیات خلا میں جا نہیں سکتے، تو وہ کیسے جانتے ہیں کہ وہاں کیا موجود ہے؟ وہ مختلف قسم کی برقی مقناطیسی لہروں کو پکڑنے والی دوربینوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسٹروکیمسٹری میں عام طور پر ریڈیو ٹیلی اسکوپ استعمال کی جاتی ہیں، جو ریڈیو ویوز کو دیکھ سکتی ہیں، جن کی طولِ موج انسانی آنکھ سے بہت بڑی ہوتی ہے۔
خلا میں گیس کی صورت میں موجود مالیکیولز گھومتے ہیں اور اس حرکت کے دوران توانائی خارج کرتے ہیں، جو روشنی کے ذرات کی صورت میں دوربین تک پہنچتی ہے۔ ہر فوٹون ایک مخصوص توانائی رکھتا ہے، اور یہی توانائی مالیکیول کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔
اگر ریڈیو ٹیلی اسکوپ کسی مالیکیول کے تمام متوقع سگنلز ریکارڈ کر لے، تو سائنسدان اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے وہ مالیکیول دریافت کر لیا ہے۔انفراریڈ دوربینیں جیسے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی استعمال ہوتی ہیں، لیکن ان میں سگنلز کی شناخت زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
نئے مالیکیول کی دریافت کے پیچھے کئی مہینوں یا سالوں کی محنت ہوتی ہے، جس میں اس کے فنگر پرنٹس یعنی اسپیکٹرم کو سمجھا جاتا ہے۔
میں نے جرمنی کی یونیورسٹی آف کولون میں ایک سال اسی قسم کی تحقیق کی۔ وہاں میں نے کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے یہ اندازہ لگایا کہ مختلف مالیکیولز کے اسپیکٹرم کیسے نظر آئیں گے۔
لیبارٹری میں ان مالیکیولز کو خلا جیسے ماحول میں رکھ کر ان کے سگنلز ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ پھر کمپیوٹر ماڈلز کو بار بار ایڈجسٹ کیا جاتا ہے تاکہ وہ حقیقی نتائج سے میل کھا سکیں۔یہ ماڈلز بعد میں ماہرین فلکیات کو خلا میں کمزور سگنلز کی شناخت میں مدد دیتے ہیں۔
کچھ اوقات میں سگنلز کمزور یا ایک دوسرے میں ملے ہوئے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے نتائج واضح نہیں ہوتے۔کبھی سائنسدان جلد بازی میں نتائج شائع کر دیتے ہیں، خاص طور پر جب بات زندگی کے ممکنہ آثار کی ہو۔
تقریباً 20 سال پہلے خلا میں گلائسن نامی امینو ایسڈ کی دریافت کا دعویٰ کیا گیا تھا، جو زندگی کے بنیادی اجزاء میں سے ایک ہے۔بعد میں تحقیق سے ثابت ہوا کہ اس دریافت میں اہم سگنلز موجود نہیں تھے، اس لیے یہ دعویٰ قبول نہیں کیا گیا۔
حال ہی میں وینس کے ماحول میں فاسفین گیس کی ممکنہ موجودگی کا دعویٰ سامنے آیا، جو زمین پر بعض حیاتیاتی عمل سے جڑی ہوتی ہے۔یہ خبر بہت اہم سمجھی گئی اور زندگی کے امکان پر بحث شروع ہو گئی، مگر بعد کی تحقیقات میں اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اب بھی سائنسدان اس پر تحقیق کر رہے ہیں۔
نئے مالیکیولز یا زندگی کے آثار کی خبروں پر یقین کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔عام طور پر وہ نتائج زیادہ قابلِ اعتماد ہوتے ہیں جن میں متعدد مضبوط سگنلز موجود ہوں، نہ کہ صرف ایک یا دو۔اگر کوئی دعویٰ بہت “سنسی خیز” لگے تو بہتر ہے کچھ وقت انتظار کیا جائے اور بعد میں آنے والی مزید تحقیق کا جائزہ لیا جائے۔کائنات میں زندگی کی تلاش ایک دلچسپ مگر نہایت پیچیدہ عمل ہے۔
ہر نئی دریافت امید بھی جگاتی ہے اور احتیاط کا تقاضا بھی کرتی ہے، کیونکہ سچائی تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔






