تہران ( پاک ترک نیوز) کیا مشرق وسطیٰ کی خطرناک جنگ اب ختم ہونے والی ہے؟ یا مشرق وسطیٰ ایک اور بڑے طوفان کی طرف بڑھ رہا ہے؟۔۔۔کیا واقعی چند دنوں میں حالات بدل سکتے ہیں؟، کیا امریکہ کے صدر کی بات سچ ثابت ہو گی۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا،خطے کے کئی ممالک جنگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں ۔۔ عالمی رہنما ب جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری کیے ہوئے ہیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک بیان داغ دیا کہ یہ جنگ زیادہ دیر نہیں چلے گی ،جلد ختم ہو سکتی ہے ،خطے میں جاری کشیدگی کا حل نکالا جا سکتا ہے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔
روسی صدر پیوٹن نے امریکی صدر کو ایران جنگ جلد ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے ،،،دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان ایران جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ، خطے میں تیل کی عالمی صورت حال بھی زیر غور آئی۔۔خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں بھی جاری ہیں ،وزیراعظم شہبازشریف کے کئی ملکوں کے سربراہان سے رابطے ہوئے ،عراقی وزیراعظم نے بھی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ٹیلیفون کر کے کشیدگی کم کرنے کیلئے تعاون کی پیش کش کی اور کسی ہمسائیہ ملک پر حملوں کیلئے عراقی سرزمین کے استعمال سے بھی روک دیا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ایک امید کی کرن ہے، مگر ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بیان کافی نہیں ،تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے خاتمے کا فیصلہ صرف ایک بیان سے نہیں ہوگا۔اس کا انحصار ایران کے ردعمل، اسرائیل کی حکمت عملی اور عالمی طاقتوں کی سفارتی کوششوں پر ہے۔اگر سفارتی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو یہ تنازعہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ میں بھی دھکیل سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت اور امن پر پڑ سکتے ہیں۔
ایران کی جوابی کارروائیاں، اسرائیل کی فوجی حکمت عملی، اور عالمی طاقتوں کے فیصلے، سب کچھ جنگ کے مستقبل کا تعین کریں گے۔فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے۔ دنیا کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا سفارتکاری اس بحران کو روک پاتی ہے یا مشرق وسطیٰ مزید بڑی جنگ کی طرف بڑھتا ہے۔












