تہران ( پاک ترک نیوز) علی لاریجانی کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے سفارتی حل کے امکانات کم ہونے لگے،ایران میں اعلیٰ سکیورٹی عہدے پر فائز رہنے والے رہنما علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ملک کا سیاسی اور سکیورٹی توازن یکسر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
علی لاریجانی حالیہ عرصے میں ایران کے جوہری مذاکرات اور علاقائی سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ علی لاریجانی ایران کے ان چند بااثر رہنماؤں میں شامل تھے جو مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان رابطہ رکھتے تھے اور سابق صدر حسن روحانی کے نسبتاً معتدل دور کی سیاست سے جڑے ہوئے سمجھے جاتے تھے۔
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا اثر و رسوخ بڑھنے کا امکان ہے جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق اور سخت پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے لاریجانی ایسے رہنما تھے جو جنگی حکمتِ عملی اور سفارت کاری کے درمیان رابطہ قائم کر سکتے تھے، یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی تجزیہ کار ایلی جیرانمایہ کے مطابق اِن کی شہادت ایران میں سخت گیر سوچ کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اہم شخصیت کے اچانک منظر سے ہٹنے کے بعد ایران میں سخت گیر حلقوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے جبکہ نسبتاً معتدل اور اصلاح پسند آوازیں پس منظر میں جاتی نظر آ رہی ہیں۔ اب پالیسی سازی میں زیادہ سخت مؤقف اپنایا جا سکتا ہے، خاص طور پر امریکا اور مغربی دنیا کے حوالے سے ایران کی حکمت عملی مزید جارحانہ ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس تبدیلی کے اثرات نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے، جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔
ایران میں بدلتا طاقت کا توازن کیا خطے میں ایک نئی کشمکش کی شروعات ہے؟ وقت ہی اس کا جواب دے گا۔سوال یہ ہے کہ کیا نئی قیادت ایران کو مزید تصادم کی طرف لے جائے گی یا خطے میں استحکام کے لیے کوئی نئی راہ نکالے گی؟ماہرین کے مطابق لاریجانی کی شہادت ایران کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ سخت اور غیر لچکدار بنا سکتی ہے جس سے جنگ کے طول پکڑنے اور خطے میں خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔












