واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) ٹیسلا کی نئی نسل کی روڈسٹر ایک بار پھر خبروں میں آگئی۔۔گاڑی کی رونمائی ابھی ہوئی بھی نہیں، لیکن کمپنی نے خریداروں سے 50 ہزار ڈالر پیشگی رقم لینا شروع کردی ہے۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً نو سال پہلے بھی ٹیسلا نے یہی رقم وصول کی تھی، مگر آج تک ایک بھی گاڑی صارف کے حوالے نہیں کی گئی۔۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بار ٹیسلا اپنا وعدہ پورا کرے گی؟گاڑی ابھی پردے میں ہے۔۔رونمائی یکم اکتوبر کو ہونی ہے۔۔
یہ بھی پڑھیں: تین پہیوں والی الیکٹرک گاڑی تیار
لیکن ٹیسلا نے نئی روڈسٹر کی بکنگ ابھی سے کھول دی ہے۔۔اور بکنگ کے لیے رقم بھی معمولی نہیں۔۔پورے 50 ہزار ڈالر!خریدار پہلے 5 ہزار ڈالر جمع کرائے گا،جبکہ باقی 45 ہزار ڈالر دس روز کے اندر منتقل کرنا ہوں گے۔۔رقم مکمل ہونے کے بعد ہی بکنگ حتمی ہوگی۔لیکن کہانی کا اصل موڑ یہاں آتا ہے۔۔یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ٹیسلا روڈسٹر کے نام پر 50 ہزار ڈالر لے رہی ہے۔سنہ 2017 میں بھی کمپنی نے یہی رقم بطور پیشگی وصول کی تھی۔۔اس وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ گاڑی 2020 میں سڑکوں پر آجائے گی۔۔مگر 2020 گزر گیا۔پھر ایک کے بعد ایک تاخیر ہوتی رہی۔۔
اور تقریباً نو برس بعد بھی پہلے خریدار اپنی گاڑی کے منتظر ہیں۔اب ٹیسلا ایک بار پھر بڑے دعووں کے ساتھ واپس آگئی ہے۔ایلون مسک کے مطابق نئی روڈسٹر میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جو گاڑی کو زمین سے اوپر اٹھنے یا منڈلانے تک کی صلاحیت دے سکتی ہے۔2017 میں پیش کی گئی گاڑی کے بارے میں 620 میل تک مسافت، تقریباً ایک اعشاریہ نو سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار اور 250 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کے دعوے کیے گئے تھے۔یکم اکتوبر کو ٹیسلا گاڑی کی قیمت، خصوصیات اور پیداوار کے اہداف سامنے لائے گی۔مگر اصل سوال پھر وہی ہے۔۔۔اس بار ٹیسلا صرف وعدہ کرے گی۔۔ یا واقعی روڈسٹر سڑک پر بھی اتارے گی؟












